
کیف: یوکرین کی پارلیمنٹ نے روس کے خلاف جاری جنگ کے دوران ملک کی نئی وزیرِاعظم کے طور پر یولیا سویریدینکو کو نامزد کر دیا ہے۔ 39 سالہ یولیا نے اس سے قبل نائب وزیرِاعظم کے طور پر خدمات انجام دی ہیں اور اب انتہائی نازک حالات میں حکومت کی قیادت سنبھالیں گی۔
صدر وولودومیر زیلنسکی نے نئی حکومت سے توقع ظاہر کی ہے کہ وہ اگلے چھ ماہ میں میدانِ جنگ میں استعمال ہونے والے مقامی ہتھیاروں کی پیداوار کا حصہ 50 فیصد تک بڑھا دے گی، تاکہ دفاعی صنعت کو فروغ ملے اور معیشت مستحکم ہو۔
یولیا سویریدینکو نے اپنی ذمہ داریوں کے آغاز پر ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر کہا:
"ہم تیزی سے کام کریں گے، خاص طور پر دفاعی پیداوار، فوجی ساز و سامان کی فراہمی اور ٹیکنالوجی کی بہتری پر توجہ دی جائے گی۔”
اہم تبدیلیاں اور مالی چیلنجز
حکومت میں دیگر اہم تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں، جن میں سابق وزیرِاعظم ڈینیس شمیہال کو نیا وزیرِ دفاع مقرر کیا گیا ہے۔ یوکرین کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے، اور اگلے سال کے لیے تقریباً 19 ارب ڈالر کے بجٹ خسارے کا خدشہ ہے۔
یولیا سویریدینکو نے مالیاتی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے مکمل آڈٹ اور بڑے پیمانے پر نجکاری کے اقدامات کا بھی اعلان کیا ہے۔
سیاسی ردِ عمل
اپوزیشن جماعتوں نے نئی حکومت کی خودمختاری پر سوالات اٹھائے ہیں، تاہم صدر زیلنسکی نے یقین دلایا ہے کہ ان کی ٹیم مکمل طور پر تیار ہے اور ملک کو درپیش تمام اندرونی و بیرونی چیلنجز کا کامیابی سے مقابلہ کرے گی۔