
عثمان خواجہ ایک بار پھر فلسطینی بچوں پر مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے لگے
سڈنی: آسٹریلوی ٹیسٹ کرکٹر عثمان خواجہ نے ایک بار پھر نہتے فلسطینیوں، خصوصاً بچوں پر جاری اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ عثمان خواجہ نے سوشل میڈیا پر ایک جذباتی پیغام شیئر کرتے ہوئے زخمی فلسطینی بچوں کی ویڈیو پوسٹ کی، جو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔
عثمان خواجہ نے اپنے پیغام میں لکھا:
"یہ دیکھنا مشکل ہے… ذرا تصور کریں ایسے جینے کا۔ یہ ظلم اور بربریت اب بھی جاری ہے۔ یونیسیف نے غزہ کو بچوں کا قبرستان قرار دیا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ دو سال گزر چکے ہیں لیکن معصوم بچوں کا قتل، بھوک سے تڑپتے انسان، اور ابتدائی طبی مراکز پر حملے بدستور جاری ہیں۔
"میں ہمیشہ بولتا رہوں گا، اگر ہمارے لیے یہ سب کچھ معمول بن گیا ہے، تو ہم حقیقتاً ختم ہو چکے ہیں۔ آواز اٹھانا بند نہ کریں۔ انسانیت، برابری اور بہتر کل کے لیے ہمیشہ کھڑے رہیں،” انہوں نے مزید کہا۔
عثمان خواجہ اس سے قبل بھی فلسطینی عوام کے حق میں آواز اٹھا چکے ہیں، جس پر انہیں آئی سی سی کی جانب سے تنقید اور بعض پابندیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا، تاہم وہ اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے۔
سوشل میڈیا صارفین اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے عثمان خواجہ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے "جرأت مندانہ اور انسانیت کا علمبردار قدم” قرار دیا ہے۔