
لاہور: پنجاب اسمبلی سے معطل کیے گئے اپوزیشن کے 26 ارکان کی بحالی کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں۔ معطل ارکان کو بحال کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، جس کا باضابطہ اعلان اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان رولنگ کے ذریعے کریں گے۔
بدھ کو حکومت اور اپوزیشن پر مشتمل مذاکراتی کمیٹی کا تیسرا اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے بیرون ملک سے آڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اپوزیشن لیڈر احمد خان بھچر، معین قریشی، علی امتیاز وڑائچ، رانا شہباز، افتخار چھچھڑ، شعیب صدیقی اور مجتبیٰ شجاع الرحمان بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
صوبائی وزیر مجتبیٰ شجاع الرحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اجلاس نتیجہ خیز رہا اور آئندہ اسمبلی اجلاس میں نظم و ضبط کو برقرار رکھنے پر اتفاق ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں گالی گلوچ، نعرے بازی اور ہنگامہ آرائی کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ بزنس ایڈوائزری کمیٹی کی ہدایات کے مطابق اسمبلی کارروائی چلائی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایتھکس کمیٹی کو فعال کیا جائے گا اور ہر اجلاس کے بعد قواعد کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن نے بحالی کا کوئی باضابطہ مطالبہ نہیں کیا، تاہم اسپیکر کی رولنگ کے تحت ارکان بحال ہوں گے اور سینیٹ انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے اہل ہوں گے۔
اسپیکر اور اپوزیشن لیڈر کے بیانات
اس موقع پر اسپیکر ملک محمد احمد خان نے مذاکرات کی کامیابی پر حکومت اور اپوزیشن کو مبارکباد دی اور کہا کہ ووٹ کا حق کسی سے نہیں چھینا جا سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ احتجاج اپوزیشن کا حق ہے، مگر یہ آئین و قانون کے دائرے میں ہونا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر احمد خان بھچر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ مذاکرات کا تیسرا دور نتیجہ خیز رہا اور ایتھکس کمیٹی کو فعال کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر معطل ارکان بحال نہ ہوئے تو وہ اسمبلی کے باہر علامتی اجلاس منعقد کریں گے، تاہم معافی کا کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا۔
پس منظر
یاد رہے کہ 28 جون کو وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی اسمبلی تقریر کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا تھا، جس پر اسپیکر نے 26 ارکان کو معطل کرتے ہوئے ان کے خلاف الیکشن کمیشن کو ریفرنس بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں، 15 جولائی کو ان ارکان پر توڑ پھوڑ اور نقصان پہنچانے کے الزام میں فی کس 2 لاکھ 3 ہزار 550 روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
مذاکرات کی کامیابی کے بعد پنجاب اسمبلی میں سیاسی کشیدگی میں کمی آنے کا امکان ہے اور ایوان کی کارروائی آئندہ دنوں میں مزید پُرامن اور مؤثر انداز میں جاری رہنے کی توقع ہے۔