
اسلام آباد/راولپنڈی:
جڑواں شہروں میں گزشتہ رات سے جاری موسلادھار بارش نے معمولاتِ زندگی درہم برہم کر دیے ہیں۔ 230 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ ہونے کے بعد نالہ لئی میں طغیانی اور نشیبی علاقوں میں پانی داخل ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
نالہ لئی میں پانی خطرناک حد تک بلند
نالہ لئی، کٹاریاں پر پانی کی سطح 20 فٹ
گوالمنڈی پل پر 19 فٹ
دریائے سواں کا پل بھی زیرِ آب آ گیا
نالہ لئی کے اطراف خطرے کے سائرن بجا دیے گئے ہیں، اور واسا، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس سمیت تمام اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ قریبی آبادیاں جیسے کہ ڈھوک کھبہ بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔
انخلا کی وارننگ، فوج سے مدد طلب
ریسکیو حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں، جب کہ ایم ڈی واسا کی جانب سے ٹرپل ون بریگیڈ سے رابطہ کیا گیا ہے اور ایمرجنسی کی صورت میں فوج کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ٹریفک نظام متاثر، عوام کو گھروں میں رہنے کی ہدایت
کئی مرکزی شاہراہیں زیر آب آنے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہے۔ انتظامیہ نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
ضلع راولپنڈی میں ایک دن کی چھٹی
ضلعی انتظامیہ نے شدید موسم کے پیش نظر جمعہ کے روز تمام تعلیمی ادارے اور دفاتر بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے عوام سے گھروں میں رہنے کی اپیل کی ہے۔
جہلم اور وادی نیلم میں بھی خطرہ
جہلم میں بھی ندی نالوں میں طغیانی کے بعد فوجی مدد طلب
وادی نیلم (آزاد کشمیر) میں دریاؤں کا بہاؤ خطرناک سطح تک پہنچ گیا
محکمہ موسمیات کی مزید بارشوں کی پیش گوئی
محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں مزید بارشوں کا امکان ظاہر کیا ہے، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
شہریوں سے اپیل:
– نالہ لئی کے قریب رہائش پذیر افراد فوری انخلاء اختیار کریں
– غیر ضروری سفر سے گریز کریں
– ہنگامی صورت میں 1122 پر رابطہ کریں