56

امریکی سائنس دانوں نے حقیقی اڑن طشتری تیار کرلی

اڑن طشتری کے بارے میں بہت سی باتیں مشہور ہیں اور اس معاملے پرسائنس دان بھی مختلف آرا رکھتے ہیں۔ لیکن امریکی سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے عملی طور پر اڑن طشتری سے مشابہ ڈیوائس تیار کرلی ہے۔

امریکا کی ممتار یونیورسٹی میسا جیوٹیس انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی کے ایرو اسپیس انجیئنرز پر مشتمل ٹیم نے ایک ایسی گردشی ڈیوائس ایجاد کی ہے جوکہ چاند کے قدرتی چارج کی مدد سے گردش کرے گی۔

ایم آئی ٹی کے شعبہ برائے ایروناٹکس( ہوابازی) اور ایسٹروناٹکس ( علم خلا نوردی) کے طالب علم اور اس تحقیق کی سربراہی کرنے والے اولیور جیا رچرڈ کا کہنا ہے کہ دکھنے میں یہ ڈیوائس سائنس فکشن فلموں میں دکھائی دی جانے والی اڑن طشتری سے مشابہہ ہے، یہ چاند کی سطح سے بھیجے جانے والے چارجڈ آیونز کی چھوٹی شعاعوں کی مدد سے اپنے افعال سرانجام دے گی۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چاند کی سطح اربوں سال سے شمسی تاب کاری کا سامنا کرنے کی وجہ سے چارج ہوچکی ہے اور جب اس ڈیوائس کی قوت چاند کی قوت سے ملے گی تو نتیجے میں یہ سطح سے تھوڑی اوپر اٹھ جائے گی۔

ٹیم کا مزید کہنا ہے کہ چاند کی سطح پر موجود چارج چاند کی گرد کو 3 فٹ سے بھی زیادہ بلندی پر اٹھا کر گردش کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ جب ہم کمبل سے بالوں کو رگر کر تھوڑا سا اوپر اٹھاتے ہیں تو ہمارے بال بھی اوپر اٹھ جاتے ہیں اور یہ اسٹیٹک چارج کی بدولت ہوتا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ ڈیوائس تجرباتی بنیادوں پر بنائی گئی ہے لیکن ہمیں امید ہے کہ اسے مستقبل میں چاند اور شہاب ثاقب پر جانے والے مشنز میں با حفاظت گردش کےلیے بھیجا جاسکتا ہے۔

اس سمپل ماڈل کی بنیاد پر ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ دو پاؤنڈ وزنی طشتری کی شکل میں بننے والی ڈیوائس 10 کلو وولٹ آیون رکھنے والے بڑے شہاب ثاقب کی سطح سے تقریبا 1 سینٹی میٹر اوپر گردش کر سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں