45

کیا واقعی رات کے وقت یہاں جنات اور ملائکہ آتے ہیں۔۔ بلوچستان کے پہاڑوں میں موجود یہ کس مشہور ہستی کی قبر ہے جہاں رات کو جانا منع ہے

سوشل میڈیا پر ایسی کئی ویڈیوز دیکھنے کو ملیں گے جس میں منفرد اور دلچسپ معلومات موجود ہوتی ہیں۔ کچھ ایسی بھی ہوتی ہیں جو کہ لوگوں کو حیرت میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ اس خبر میں آپ کو ایک ایسے ہی مقام سے متعلق بتائیں

گے جس میں ایک ایسے مقام کا ذکر کریں گے جو کہ پراسرار بھی ہے دلچسپ بھی۔سردار فوٹو گرافی کی جانب سے ایک ویڈیو ویڈیو اپلوڈ کی گئی تھی جس میں یوٹیوبر لاہوت لا مکان میں موجود مشہور صوفی بزرگ سخی بلاول شاہ نورانی کے مزار اور ان سے منسلک مقدس مقامات کی سیر کرائی۔ لاہوت لامکان بلوچستان کے علاقے خضدار میں ایک غار کا نام ہے جہاں مشہور صوفی بزرگ سخی بلاول نورانی کا مزار موجود ہے۔ یہ مزار ایک ایسی جگہ واقع ہے جہاں دور دور تک صرف دیوہیکل پہاڑ ہی ہیں، جبکہ ان پہاڑوں کے پتھروں میں اتنی پھسلن ہے کہ حکومت کی جانب سے یہاں لوہے کی سیڑھیاں بھی نصب کی گئی ہیں۔ یہ مزار اس لیے بھی مشہور ہے کیونکہ مقامی طور پر کئی روایتیں سامنے آئی ہیں، مقامی طور پر بتایا جاتا ہے کہ صوفی حضرت سخی نورانی کی جانب سے لوگوں کے سوالوں پر ایک کرشہ دکھایا گیا تھا جس میں پہاڑ میں سے دودھ کی ندلی بہہ گئی تھی۔ یوٹیوبر کی جانب سے وہ مقام بھی دکھایا گیا اور بتایا کہ اس مقام پر وہ آثار موجود ہیں جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دودھ موجود تھا۔ اس مزار تک پہچنے کے لیے کئی چٹیل پہاڑوں اور پتھریلے راستوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح ایک اور مقامی روایت موجود ہے جو کہ اگرچہ ثابت نہیں ہوئی ہے کہ اس مقام پر ایک مسجد بھی موجود ہے جہاں صوفیائے کرام اور ابنیائے کرام نے نماز ادا کی ہے۔ لاہوت لامکان دراصل وہ مقام ہے جہاں بہت سے اولیائے کرام بشمول حضرت لال شہبار قلندر، حضرت سخی بلاول نورانی چلہ کاٹا کرتے تھے یہ وہ مقام ہے جہاں یہ بزرگ اللہ کی عبادت میں مشغول رہا کرتے تھے۔ خاموشی اور تنہائی میں اس مقام میں اللہ کی عبادت اس طرح کی جاتی تھی کہ عبادت میں کوئی خلل ممکن نہیں ہوتا تھا۔ اس مقام سے تمعلق یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ یہاں پہاڑوں اور مزار کے اطراف جنات، دیو اور ملائکہ آتی ہیں اور جوکہ مغرب سے لے کر صبح تک عبادت کرتی ہیں۔ اسی لیے انتظامیہ کی جانب سے اس مقام کو شام 5 بجے کے بعد کسی بھی انسان کے لیے بند کر دیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ شام 5 بجے کے بعد یہاں آنا خطرے سے خالی نہیں ہوتا ہے کیونکہ غیر انسانی مخلوق کی عبادت میں خلل ہو سکتا ہے۔ یہاں موجود پہاڑ بھی کچھ ایسے خوفناک قسم کے ہیں

جو کہ شیطانی شکل سے مماثلت رکھتے ہیں، جبکہ اس مقام سے متعلق کئی دیگر روایتیں بھی موجود ہیں جو کہ محض روایتیں ہی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں