62

آزادی کے متوالے کی آخری نشانی

جولیانا کی عمر پانچ سال تھی۔ اسے اپنا والد اچھی طرح یاد ہے۔ وہ اس کے دفتر اتی اور اسے کام کرتے دیکھتی۔ اس کا والد ملک کا وزیراعظم تھا جس نے آزادی کے لئے گراں قدر خدمات انجام دی تھیں اور عوام نے اسے منتخب کیا تھا۔ اس نےعنان اقدار کی منتقلی کے موقع پرجون 1960 میں بلجیئم کے دارالخلافہ برسلز میں منعقد کی گئ تقریب میں ایک تقریر کی جو بہت مشہور ہوئ۔ اس سے قبل بلجیئم کے بادشاہ نے تقریر کی اور گانگو کے عوام پر اپنے ملک کی اقتدار کی تعریف کی۔ منتخب وزیراعظم کی تقریر ایجنڈے میں شامل نہیں تھی لیکن یہ عوامی قائد سٹیج پر ایا اور بہت ہی کڑوا سچ کہہ گیا۔ اس نے کہا کہ اب نوازاد ملک کے سیاہ وسفید کا مالک وہاں کی عوام ہوگی۔ وہاں امن واشتی اہیگی۔ انصاف ہوگا۔ ہر ایک کو اپنا حق ملے گا۔ پہلے وہاں سیاہ فام اورسفید فام لوگوں کے لئے علحدہ قوانین تھے۔ ایک سیاہ فام اپنے سیاہ فام دوست کو فقط ‘تو’ کہہ کر مخاطب کرسکتا تھا ‘اپ’ نہیں کہہ سکتا اس لئے کہ عزت کا خطاب صرف غیر ملکی اقاوں کے لئے مخصوص تھا۔ اس نے اپنے عوام پر روا رکھے گئے مظالم کا ذکر کیا جس میں لاکھوں افراد جاں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ بلجیئم نے خود سے ستر گنا بڑے ملک گانگو پر اسی سال حکومت کی جس کے دوران بھوک، افلاس اورحکومت کے ہاتھوں تشدد میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ نئے وزیراعظم کی یہ تقریر سابقہ حکمرانوں کو پسند نہیں ائی۔ اسے بادشاہت کی توہین سمجھی گئی۔ اس کا یہ اعلان بھی کہ اب ملک کے معدنی دولت مالک سیاہ فام مقامی لوگ ہونگے استحصالی قوتوں کو ناگوار گزرا۔ اسں کے ساتھ نئے مملکتِ کے امور میں مدد کرنے کا امکان ختم ہوا۔ اس کے خلاف سازشوں کا آغاز گھر سے ہوا۔ پہلے تو کٹنگا صوبے نے خود مختاری کا اعلان کیا. بلجیئم نے اپنے شہریوں کی حفاظت کے لئے فوج بھیج دی لیکن اس کی ہمدردیاں کٹنگا کےعلاحدگی پسندوں کے ساتھ تھیں۔ ایک اور صوبے نے بھی بغاوت کی۔ افریقہ کے اس بڑے ملک میں افراد تفری، بغاوت اور طوائف الملوکی پھیل گئیں۔ وزیراعظم نے امریکہ سے مدد مانگی، معاملہ سلامتی کونسل میں اٹھایا گیا، کچھ مدد ائ بھی لیکن معاملات قابو میں نہیں ائے۔ یہاں سے مایوس ہوکر وزیراعظم نے روس سے مدد مانگنے میں بھلائی سمجھی۔ اس پر روس نوازی کا الزام دھر لیا گیا اور سرد جنگ کے زمانے میں روس نواز ہونے کی قیمت چکانی پڑتی تھی۔ اس لئے روس مخالف ممالک کا گانگو کے نوزائیدہ جمہوریت سے ہمدردی رہی نہ اس کے وزیراعظم سے۔۔ دوسری طرف سے ملک کے صدر نے وار کیا اور وزیراعظم کی معزولی کا پروانہ جاری کرکے اس کو اقتدار کے تیسرے مہینے معزول کیا۔ رہی سہی کسر فوج کے سربراہ موبوتوسیسے سیکو نے پوری کی اور حکومت پر قبضہ کر کے حریت پسند قائد اور منتخب وزیراعظم کو گھر پر نظر بند کیا۔ اب اقتدار کے چاہنے والے آزادی کے نام لیوا کی زندگی کو اپنے لئے خطرہ سمجھنے لگے لہٰذا اس کو منظر سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس بطل حریت کا کیا انجام ہوا اس سربستہ راز سے اس وقت کے کانگو میں متعین بلجئیم کے پولیس کمشنر جیرالڈ سویٹ نے چالیس سال کے طویل عرصے کے بعد پردہ اٹھایا۔ اس نے 1999 میں ایک ٹیلی وژن انٹرویو کے دوران مقبول افریقی عوامی قائد کی ساتھ کی گئی ظلم کی جو تفصیل بتا دی اس کو سننے کے لئے دل گردہ چاہئے ۔ اس عوامی قائد کو پہلے باغی صوبے کٹنگا لےجایا گیا۔ اس پر تشدد کیا گیا اور پھر اسے دو ساتھیوں سمیت رات کی تاریکی میں گولیاں مار دی گئی۔ اس کی لاش کو دفنایا، نکالا، اور بالآخر تیزاب میں جلایا گیا۔ اس موقع پربلجیئن پولیس کمشنر نے لوممبا کے دو دانت اور دو انگلیاں اپنے پاس رکھ لئے تھے۔ وہ افسر مر گیا تواس کی بیٹی گوڈیلیو نے 2016 میں انکشاف کیا کہ اس کے پاس فقط ایک دانت محفوظ ہے۔ اس دانت کو بلجیئم حکام نے اپنی تحویل میں لے لیا اور ایک طویل قانونی جنگ کے بعد 20 جون کو آنجہانی کے خاندان کو واپس کر دیا۔ یہ دانت مقبول افریقی رہنما،حریت پسند قائد اور کانگو کے 34 سالہ منتخب وزیراعظم پیٹرس لوممبا کا تھا جس کو 17 جنوری 1961 کو مارا گیا تھا۔ فروری 1961 میں روسی حکومت نے ماسکو کی پیپلز فرینڈشپ یونیورسٹی کو آنجہانی پیٹرس لوممبا کے نام کیا جہاں اکثر افریقی اور دوسرے غیر ملکی پڑھنے اتے ہیں۔ سویٹ یونین کے احتتام پر 1992 میں یونیورسٹی کا سابقہ نام بحال کیا گیا لیکن لوگ اس کو لوممبا کے نام سے ہی یاد کرتے رہے۔ اب برسلز میں ایک چوک کو پیٹرس لوممبا سکوائر کا نام دیا گیا ہے۔ اس کا ایک بت بھی برسلزمیں نصب کیا گیا ہے۔ اس کے اپنے ملک میں ایک عرصے تک اس کا نام لینا جرم تھا پھر حالات بدل گئے۔ اب عوام اسے قومی ہیرو کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔ اس کی دانت کی آخری نشانی گانگو پہنچی تو اسے سرکاری اعزاز کے ساتھ دفنایا گیا۔اپنے والد کی آخری نشانی، سونے کی پتری لگی ہوئی دانت وصول کرتے ہوے پٹریس لومبا کی بیٹی جولیانا لومبا نے ایک سوال کیا، ‘ کسی سے اس طرح کا سلوک کرنے کے لئے ایک دل میں کتنی نفرت ہونی چاہئے ؟’ اس کا جواب کون دے گا؟ بلجیئم کے بادشاہ نے گانگو کے اپنے حالیہ دورے میں وہاں کے عوام کے ساتھ نوآبادیاتی دور کی تکالیف پر گہرے افسوس کا اظہار تو کیا لیکن معافی نہیں مانگی۔ کہا جاتا ہے کہ نوآبادیاتی دور میں لاکھوں عوام بھوک، افلاس اور بیماریوں کے شکار ہوئ جن میں ایک کثیر تعداد جان سے ہاتھ دھو بیٹھی لیکن نوآبادیاتی ادوار میں یہ کوئی انہونی بات نہیں تھی۔ پیٹرس لوممبا کا دانت کنشاسا میں گانگو کی آزادی کے 62 ویں سالگرہ کے موقعے پر, 30جون کو , دفنایا گیا۔ بقول اسکی بیٹی جولیانا کے اس کے باپ کی روح کو اب سکون ملے گا۔ لوممبا کی قبر اگر بنتی تو شاید اب تک عوام کے دلوں سے محو ہو چکی ہوتی لیکن اس کے دانت پر تعمیر ہونے والا یادگار مدتوں اس عوامی رہنما پر کی گئ ظلم کی یاد دلاتا رہے گا اور اس کی 30 جون کی تقریر اس کے عوام کے کانوں میں رس گھولتی رہےگی جس کا شرمندہ تعبیر ہونا ابھی باقی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں