عظیم فلسطینی رہنما یاسر عرفات

عظیم فلسطینی رہنما یاسر عرفات

انہوں نے فلسطینی نیشنلزم کو آگے بڑھاتے ہوئے سیاسی زندگی کا آغاز گوریلا کے طور پر کیا۔
1958میں انہوں نے ایک سٹوڈنٹ کے طور پر فلسطینی طالبعلموں کو جہد آزادی سے منسلک کرتے ہوئے انہیں ایک پلیٹ فارم پر منظم اور یکجاء کیا اور اپنے ہم عصر نظریاتی ساتھیوں کے ساتھ مل کر الفتح کی بنیاد رکھی الفتح کا فلسطین کی آزادی کے لئے کردار اور سرگرمیاں مشرق وسطی کی تاریخ کو متاثر کئے بغیر نہ رہ سکیں۔ یاسر عرفات نے فلسطین کی آزادی اور خود مختیاری کے لئے اپنے پوری زندگی وقف کردی انہوں نے فلسطینیوں کو ان کی آزادی اور شناخت کی جدوجہد سے باہم منسلک کردیا۔ جنیوا میں اقوام متحدہ کے ایک اجلاس ان کا تاریخی خطاب نہ صرف فلسطینیوں بلکہ دیگر مقبوضہ اقوام کے لئے بھی مشعل راہ ہے۔ 1964 تک فلسطین میں مختلف گروپس الگ الگ جدوجہد کررہے تھے یاسر عرفات اور عرب لیگ کی کاوشوں سے ان تمام گروپس کو ایک پلیٹ فارم پر منظم کرتے ہوئے پی ایل او کی بنیاد رکھی گئی اور1969میں اس کی زمہ داری یاسر عرفات کو سونپی گئ۔ ان کے سرگرم کردار، باحوصلہ جدوجہد اور بہترین حکمت عملی نے انہیں عالمی برادری کے درمیان ایک اہم اور منفرد مقام دیا ان کے بہترین لائحہ عمل اورجدوجہد کے حوالہ سے انہیں1994 نوبل امن انعام سے بھی نوازا گیا۔

11 نومبر 1994 کو یاسر عرفات کو جسمانی طور پر جہد آزادی فلسطین سے الگ کیا گیا بظاہر تو یہ کہا گیا کہ انہیں خون کا سرطان ہے لیکن یاسر عرفات کی بیوہ سوہا اور دیگر فلسطینی رہنماؤں نے یاسر عرفات کے موت کے بارے میں اہم انکشافات کرتے ہوئے واضح کیا کہ انہیں قتل کیا گیا ہے بعد میں یہ سچ ثابت ہوا کہ ان کے جسم میں تابکار مادہ پلونیم کی کافی زیادہ مقدار تھی جو کہ زہریلا مواد تھا جس سے واضح اشارہ ملتاہے کہ انہیں شہید کیا گیا تھا۔ یاسر عرفات کی سوچ، فکر اور مشن آج بھی زندہ ہے جن کے افکار نیشنلزم اور قومی جدوجہد کے عظیم ورثہ مین بیش بہا اضافہ ہے.