سوپر پاور امریکا کا نیاحکمران کون؟ ووٹنگ مکمل، نتائج کا سلسلہ جاری

سوپر پاور امریکا کا نیاحکمران کون؟ ووٹنگ مکمل، نتائج کا سلسلہ جاری


امريکی صدارتی انتخابات کے ليے پولنگ اکثر رياستوں ميں مکمل کرلی گئی ہے اور نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ڈيموکريٹک اميدوار جوبائيڈن 238 اليکٹورل ووٹ کے ساتھ آگے اور ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ 213 اليکٹورل ووٹ کے ساتھ پيچھے ہیں۔ رياست الاسکا ميں پولنگ کا وقت پاکستانی وقت کے مطابق صبح 11 بجے ختم ہوگا۔ جارجيا، انڈيانا، کينٹکی اور ساؤتھ کيرولائنا ميں صبح 5 بجے، واشنگٹن ڈی سی ميں صبح 6 بجے جبکہ ايری زونا کولاراڈو سميت ديگر 14 رياستوں ميں صبح 7 بجے پولنگ کا وقت ختم ہوگيا۔

امريکی ميڈيا کے ايگزٹ پول کے مطابق جوبائيڈن 131 اليکٹورل ووٹ کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ سے آگے نکل گئے جبکہ صدر ٹرمپ 98 اليکٹورل ووٹ اب تک حاصل کرسکے ہیں۔دونوں صدارتی اميدواروں کو کاميابی کے ليے 270 اليکٹورل ووٹ درکار ہيں جبکہ ارلی ووٹنگ ميں 10 کروڑ 20 لاکھ ووٹ کاسٹ ہوچکے ہيں۔

ابتدائی متوقع نتائج میں کسی ریاست میں کامیاب پارٹی تبدیل نہیں ہوئی البتہ فلوريڈا ميں حيرت انگيز طور پر ٹرمپ کامياب ہوگئے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی انتخاب کے ليے جاری ووٹنگ کے دوران ورجينيا ميں اپنے اليکشن ہيڈ کوارٹر کا دورہ کيا۔ اس موقع پر ميڈيا سے گفتگو ميں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کے ليے صدارتی اليکشن ہارنا آسان نہيں ہے۔ جيت آسان ہوتي ہے مگر ہارنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

امريکا کے صدارتی انتخاب ميں ڈيموکريٹس کے اميدوار جوبائيڈن کہتے ہيں کہ اس بار نوجوانوں، خواتين اور افريقی امريکيوں کی وجہ سے ووٹنگ کا تناسب توقعات سے زيادہ ہے۔ پنسلوينيا کو جيتنے سے متعلق کچھ روايات ہيں مگر روايات ٹوٹ جايا کرتی ہيں۔ايگزٹ پول کے مطابق بائيڈن کو 52 اور ٹرمپ کو 48 فيصد ووٹ ملنے کا امکان ہے۔ ايوان نمائندگان کا کنٹرول ڈيموکريٹس کے پاس ہی رہے گا-