۔انگلینڈ میں چار ہفتوں کا دوسرا قومی لاک ڈاؤن لگا گیا۔

لندن۔ رپورٹ زاید خٹک سے انگلینڈ میں کرونا کے مریضوں کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ کے بعد ۔انگلینڈ میں چار ہفتوں کا دوسرا قومی لاک ڈاؤن لگا دیا گیا۔انگلینڈ میں دوسرے قومی لاک ڈاؤن کا نفاذ جمعرات سے 2 دسمبر تک ہوگا۔ وزیر اعظم بورس جانس نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ۔لوگ غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں۔۔لاک ڈاؤن نہ کیا تو چند ہفتوں بعد برطانیہ کے ہسپتال مریضوں سے بھر جائیں گے۔۔کرونا سے متاثرین اور شرح اموات میں اضافہ سے این ایچ ایس پر دباو بڑتا جارہا ہے۔ ۔این ایچ ایس میں مزید ڈاکٹرز،نرسسز اور پیرا میڈیکل سٹاف کی ضرورت ہے ۔قومی لاک ڈاؤن کے دوران بنیادی ضروریات زندگی کی اشیاء والے دوکانیں،سکول ،کالجز اور یونیورسٹیاں کھلی رہے گیں۔ ۔ہوٹلز،ریسٹورنٹس،پبز ، بڑے شاپنگ سینٹرز مکمل بند ہونگے۔ ۔گھر سے ایک زیادہ افراد کو ملنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ۔جاب پر جانا ضروری نہیں تو گھر سے کام کریں۔ ۔انگلینڈ میں قومی لاک ڈاؤن قوانین پر سختی سے عمل اور خلاف ورزی پر جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ ۔پابندیاں عائد نہ کی تو اگلے چھ ہفتوں میں پہلی لہر سے زیادہ اموات ہوسکتی ہیں۔ ۔لاک ڈاؤن سے کاروباری متاثرین کے لئے ریلیف پیکچز دیں گے۔ ۔لاک ڈاؤن سے بے روزگاری میں اضافہ ہوگا ۔بورس جانسن ۔لاک ڈاؤن پابندیوں سے ملکی معیشت اور کاروبارمتاثر ہوگا۔ ۔برطانیہ میں تعلیمی اداروں کے سٹاف کی یونین نے لاک ڈاؤن میں سکول کالجز کو کھولا رکھنے کی مخالفت کر دی ۔سکول اور تعلیمی ادارے کرونا کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔کیون کورٹنی جوائنٹ جنرل سیکریٹری یونین آف ایجوکیشنل سٹاف ۔پرائمری سکول کی نسبت سکینڈری سکول کے بچے کرونا سے زیادہ متاثر اور دوسروں کو کرونا وائرس منتقل کرتے ہیں۔کیون کورٹنی ۔پرائمری سکول کے بچے ایک فیصد جبکہ سیکنڈری سکول کے بچے دو فیصد سے بھی زیادہ کرونا کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔کیون کورٹنی ۔تعلیمی کلاسسز آن لائن لی جائیں ۔ ۔سو موار کو پارلیمنٹ میں لاک ڈاؤن قوانین پر بحث ہوگی اور ارکان پارلیمنٹس کی منظوری سے اس پر قانون سازی کی جائے گی۔ جبکہ وزیر اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ ۔کرونا ٹیسٹ سسٹم کو بڑھا رہے تاکہ متاثرین کی درست تعداد کا پتا چل سکے۔ جبکہ کرونا کی علامات ظاہر ہوں تو خود کو قرنطینہ کریں