افغانستان: 2 فوجی ہیلی کاپٹرز ٹکرانے سے 9 افراد ہلاک

فوجی ہیلی کاپٹرز فائل فوٹو فوجی ہیلی کاپٹرز

افغانستان کے صوببے ہلمند کے ضلع ناوہ میں افغان نیشنل آرمی کے 2 ایم آئی-17 ہیلی کاپٹرز کریش ہونے سے کم از کم 9 افراد ہلاک ہوگئے۔

افغان نشریاتی ادارے طلوع نیوز کی رپورٹ میں افغان وزارت دفاع کے حوالے سے بتایا کہ حادثہ مقامی وقت کے مطابق رات سوا بجے تکنیکی مسائل کی وجہ سے پیش آیا جس کی تفتیش کی جارہی ہے۔

قبل ازیں سیکیورٹی ذرائع نے بتایا تھا کہ 2 ہیلی کاپٹروں کے ٹکرانے سے 8 سے 15 کے قریب افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ ہیلی کاپٹرز کمانڈوز کو اتارنے کے بعد زخمی اہلکاروں کو واپس لے جانے رہے تھے اس وقت حادثہ پیش آیا۔

صوبائی گورنر کے ترجمان عمر زواک نے ضلع ناوہ میں حادثہ پیش آنے کی تصدیق کی تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

رپورٹ کے مطابق افغان صوبے ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ میں طالبان کے حملوں کے بعد سے متعدد علاقوں میں گزشتہ 4 روز سے جھڑپیں جاری ہیں۔

حکام کا کہنا تھا کہ اسی سلسلے میں افغان کمانڈو نے 2 روز قبل فضائی معاونت کے ساتھ لشکر گاہ میں آپریشن کا آغاز کیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ لشکر گاہ کے مختلف علاقوں میں آپریشن اب بھی جاری ہے جس میں اب تک 23 طالبان مارے جا چکے ہیں اور ضلع ناد علی میں 5 نئی چوکیاں قائم کردی گئی ہیں۔

خیال رہے کہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے امن مذاکرات کے کچھ ادوار کے باجود لڑائی جاری ہے۔

گزشتہ چند روز میں سیکڑوں طالبان نے ہلمند میں موجود سیکیورٹی چیک پوائنٹس پر حملہ کیا اور صوبائی دارالحکومت لشکر گاہ کے اہم مضافاتی علاقوں پر قبضہ کرلیا۔

تاہم طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ قبضہ کیے جانے والے علاقوں کا کنٹرول پہلے ہی حاصل کرلیا گیا تھا جبکہ کوئی نئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے۔

اس ضمن میں افغانستان میں امریکی فورسز کے ترجمان نے کہا تھا کہ ہلمند میں طالبان کے حملوں کا نشانہ بننے والی افغان سیکیورٹی فورسز کی مدد کے لیے متعدد اہداف پر حملے کیے گئے۔

ترجمان کرنل سنی لیگیٹ نے کہا تھا کہ افغان نیشنل ڈیفینس اینڈ سیکیورٹی فورسز کو طالبان کے حملوں کے خلاف دفاعی مدد فراہم کی جاتی رہے گی۔