فیض احمد فیض

میرے چارہ گر کو نوید ہو، صف دشمناں کو خبر کرو

‏وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر، وہ ادھار آج چکا دیا

 

آج خوبصورت لب و لہجے  کے مالک شاعر فیض احمد فیض کی برسی ہے

 

 فیض احمد فیض ترقی پسند تحریک کی سب سے توانا آواز تھے ۔انہوں نے اپنی شاعری، اپنی شخصیت، اپنے طرزِ عمل اور طرزِ فکر کے انمٹ نقوش چھوڑے ۔ میر، غالب اور اقبال کے بعد فیض اپنے عہد کے نمائندہ شاعر قرار پائے ۔ وہ دبے، کچلے ،محکوموں اور مظلوموں کی بات کرتے تھے اور ان کے حقوق کے لئے آواز بلند کرتے تھے۔ شخصیت اتنی دلکش کہ چاہنے والوں کو مسحورکردیتی تھی۔

وہ بلاشبہ اس عہد کے سب سے بڑے شاعر تھے۔ انہوں نے ساری زندگی ظلم، بے انصافی اور جبر و استبداد کے خلاف جدوجہد کی اور ہمیشہ شاعر کا منصب بھی نبھایا۔ وہ اردو شاعری کی ترقی پسند تحریک کے سب سے بڑے شاعر تھے۔

فیض نے اردو کو بین الاقوامی سطح پر روشناس کرایا اور انہی کی بدولت اردو شاعری سربلند ہوئی۔ فیض نے ثابت کیا کہ سچی شاعری کسی ایک خطے یا زمانے کے لئے نہیں بلکہ ہر خطے اور ہر زمانے کے لئے ہوتی ہے۔

نقش فریادی، دست صبا، زنداں نامہ، دست تہ سنگ، سروادی سینا، شام شہریاراں اور مرے دل مرے مسافر ان کے کلام کے مجموعے ہیں اور سارے سخن ہمارے اور نسخہ ہائے وفا ان کی کلیات۔ اس کے علاوہ نثر میں بھی انہوں نے میزان، صلیبیں مرے دریچے میں، متاع لوح و قلم، ہماری قومی ثقافت اور مہ و سال آشنائی جیسی کتابیں یادگار چھوڑیں۔

فیض احمد فیض 20 نومبر 1984ء کووفات پاگئے ان کی آخری آرامگاہ لاہور گلبرگ میں ہے۔