پانچ رہنماؤں اور اراکین اسمبلی کو ن لیگ سے نکالنے کا فیصلہ، منظوری دے دی گئی

 پاکستان مسلم لیگ ن فائل فوٹو پاکستان مسلم لیگ ن

ن لیگ نے 5 باغی ارکان کو پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پارٹی کے سیکٹری جنرل احسن اقبال نے قیادت کی منظوری کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات کرنے والے ارکان کو پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ کیا ۔تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن نے پارٹی نظم و ضب   کی خلاف ورزی کرنے والے ارکان کے خلاف بڑا فیصلہ کیا ہے۔ ن لیگ نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کرنے والے 5 ارکان کو پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس حوالے سے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے قیادت کی منظوری سے فیصلے کا اعلان کیا ہے۔پارٹی سے نکالے جانے والے ارکان پنجاب اسمبلی میں اشرف انصاری،جلیل شرقپوری شامل تھے۔ محمد فیصل خان نیازی،نشاط ڈاہا،محمد غیاث الدین بھی پارٹی سے نکالے جانے والے رہنماؤں میں شامل ہیں۔فیٹف ووٹنگ میں غیر حاضر ن لیگ کے پارلیمان کے ارکان کو بھی نوٹس بھیجا گیا ہے۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے مسلم لیگ ن کے ارکان صوبائی اسمبلی نے ملاقات کی تھی۔ملاقات کرنے والوں میں شیخوپورہ سے میاں جلیل احمد شرقپوری اور چوہدری اشرف علی انصاری شامل ہیں ، جبکہ نارووال سے ن لیگی رکن صوبائی اسمبلی محمد غیاث الدین ، خانیوال سے محمد فیصل خان نیازی ، چوہدری اشرف انصاری کے بھائی چوہدری محمد یونس انصاری بھی وزیراعلیٰ سے ملاقات کرنے والوں کا حصہ تھے ۔بتایا گیا ہے کہ ارکان صوبائی اسمبلی نے اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو اپنے انتخابی حلقوں کے مسائل سے آگاہ کیا ، جس پر وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اراکین اسمبلی کو مسائل ترجیحی بنیادوں پرحل کرنے کی یقین دہانی کروائی ۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ میرے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں ، اراکین اسمبلی کے جائز مسائل فوری حل کیے جائیں گے ، کیونکہ اراکین پنجاب اسمبلی میرے دست و باؤز ہیں ، لہٰذا انہیں عزت و احترام دیں گے ، جبکہ نئے پاکستان میں کرپشن اور کرپٹ عناصر کی کوئی گنجائش نہیں ، تنقید کی پرواہ کیے بغیر عوامی خدمت کے سفر کومزید تیزی سے آگے بڑھائیں گے ۔