پھینٹی کھانے کے بعد طلال چوہدری نے ابھی تک پولیس نے رابطہ کیوں نہیں کیا؟ میڈیا نے بھانڈا پھوڑ دیا

سابق وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری فائل فوٹو سابق وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری

مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری کو مار پیٹ کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد انہیں صوبائی دارلحکومت میں ایک نجی ہسپتال میں داخل کرادیا گیا۔

جہاں ان کی سرجری بھی ہوئی لیکن ابھی تک کسی تھانے میں مقدمہ درج کرائے جانے کی اطلاع نہیں، اب نجی ٹی وی چینل  نے دعویٰ کیا ہے کہ فریقین کو شہبازشریف نے قانونی کارروائی سے روکا ہے اور کہا ہے کہ یہ معاملہ پارٹی کا ہے تو اسے پارٹی ہی دیکھے گی ۔

نجی ٹی وی چینل نے ہسپتال ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ طلال چوہدری کو زیادہ چوٹیں آنے پر لاہور میں ڈیفنس کے علاقے میں موجود نجی ہسپتال منتقل کیا گیا ، جہاں انہیں ہسپتال کے ایگزیکٹو روم میں رکھا گیا ہے ۔ذرائع نے مزید بتایا کہ طلال چوہدری کے سر اور کمر پر چوٹیں آئی ہیں ،مختلف جگہ سے ہڈیاں بھی فریکچر ہوئیں جس کے بعد ان کے بائیں بازو کی سرجری کردی گئی ، بازو دو جگہ سے فریکچر تھا۔ بتایا گیا ہے کہ ان کے جسم پر مختلف جگہ مار پیٹ کے نشانات ہیں۔

یادرہے کہ گزشتہ رات یہ دعویٰ کیا گیا تھاکہ طلال چوہدری کا اپنی ہی پارٹی کی خاتون رہنما کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے ان کے بھائیوں کیساتھ جھگڑا ہوا تاہم طلال چودھری کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ سیڑھیوں سے گرے ہیں، چینل کی رپورٹ کے مطابق لیگی رہنما کا علاج معالجہ کرنیوالے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کے جسم پر مار پیٹ کے نشانات ہیں۔ جی این این کی رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ جھگڑے کی اطلاع کے بعد مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف متحرک ہوئے ہیں اور انہوں نے معاملے کو تھانے تک لے جانے سے روکا ہے اور ان کا خیال ہے کہ چونکہ دونوں کا تعلق ان کی پارٹی سے ہی ہے تو پارٹی کی طرف سے کارروائی کی جائے گی ، تھانے جانے سے فریقین کے ساتھ ساتھ پارٹی کی بھی بدنامی ہوگی