راجستھان میں پاکستانی خاندان کا قتل، بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے ہندو برادری کا احتجاج

 پاکستانی خاندان کا قتل فائل فوٹو پاکستانی خاندان کا قتل

اسلام آباد: ممکنہ طور پر ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہندو برادری کے سیکڑوں افراد نے بھارت میں 11 پاکستانی ہندوؤں کے قتل کے خلاف وفاقی دارالحکومت میں سفارتی انکلیو کے اندر داخل ہو کر بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے احتجاج کیا۔

تحریک انصاف کے قانون ساز اور پاکستان ہندو کونسل (پی ایچ سی) کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر رمیش ونکوانی کی سربراہی میں ملک کے متعدد حصوں خصوصاً سندھ سے جمع ہونے والے مظاہرین جمعرات کی رات اسلام آباد پہنچے اور ریڈ زون میں داخل ہوئے۔

پولیس کے ساتھ معمولی جھڑپ کے بعد پی ایچ سی ممبران نے حکام کو قائل کیا کہ وہ بھارت کے شہر جودھ پور میں ایک ہندو تارکین وطن خاندان کے 11 افراد کی پراسرار قتل پر اپنے خدشات درج کرنے کے لیے سفارتی انکلیو کے اندر بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے احتجاج کی اجازت دیں۔

پی ایچ سی کے تحت احتجاج کا اہتمام کیا گیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ اس واقعے کی تحقیقات کا آغاز کیا جائے جس کے نتیجے میں 11 افراد کی موت واقع ہوئی اور مذکورہ خاندان پاکستان سے بھارت ہجرت کرچکا تھا۔

وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا اور شرکا سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کی ہندو برادری سے اظہار یکجہتی کے لیے احتجاجی کیمپ میں آئے ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ان لوگوں سے تعلقات ختم نہیں ہوئے جو ملک چھوڑ چکے تھے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ 'یہ پاکستان کی خواتین اور بچے تھے اور بھارتی حکومت کا سلوک نامناسب ہے'۔

فواد چوہدری نے کہا کہ متاثرہ ہندو خاندان کی ایک بیٹی نے کہا کہ وہ (بھارتی حکام کے دباو) میں پاکستان کے خلاف بیان دینے پر مجبور ہوئی، یہ مناسب نہیں ہے اور نریندرمودی کی سربراہی میں برسراقتدار بھارتی پارٹی کو خود ہی شرم آنی چاہیے۔

ڈاکٹر رمیش نے احتجاجی شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دھرنے کی واحد وجہ بھارتی ریاست جودھ پور میں مارے گئے 11 پاکستانی ہندوؤں کے لیے انصاف طلب کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'وزارت خارجہ نے مجھے بتایا ہے کہ متعدد مرتبہ فون کرنے کے باوجود بھارتی حکومت نے کنبہ کے افراد کی ہلاکت کے بارے میں ضروری معلومات جاری نہیں کی ہیں'۔

ڈاکٹر رمیش نے کہا کہ کنبہ کے افراد کی موت حکومت اور پاکستانی عوام خصوصا پاکستانی ہندو برادری کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔

انہوں نے متاثرہ خاندان کے مردہ سربراہ کی بیٹی شریمتی کے اس بیان کا حوالہ دیا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ انیلیسیس ونگ (را) مبینہ طور پر والد، والدہ اور کنبہ کے دیگر افراد کے قتل میں ملوث تھی ایجنسی انہیں پاکستان میں جاسوسی کرنے اور پاکستان مخالف بیانات دینے پر قائل کرنے میں ناکام رہی۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کی ایک جامع اور شفاف تحقیقات کرے اور اس کے نتائج کو فوری طور پر پاکستان کے ساتھ شیئر کرے۔

جمعہ کی رات اسسٹنٹ کمشنر غلام مرتضیٰ چانڈیو کے ساتھ پی ایچ سی ممبروں اور شریمتی کا ایک چھوٹا گروپ ڈپلومیٹک انکلیو کے اندر بھارت ہائی کمیشن پہنچا۔

چونکہ ہائی کمیشن سے کوئی بھی مظاہرین کی قرار داد وصول کرنے نہیں نکلا تھا اس لیے ڈاکٹر رمیش نے اسے کمیشن کے مین گیٹ کی دیوار پر چسپاں کردیا۔

اس کے بعد وہ دوسروں کے ساتھ مل کر ڈپلومیٹک انکلیو سے باہر نکلے اور مظاہرین کو بتایا کہ بھارت میں قتل ہونے والے 11 افراد کے انصاف کے لیے ان کی جدوجہد کا پہلا قدم مکمل ہوا۔

انہوں نے کہا کہ انصاف کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی۔

انہوں نے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا کہ بھارتی حکومت دہلی میں پاکستان کے ہائی کمیشن کو انکوائری رپورٹ تک رسائی فراہم کرے۔