پنجاب کے دو سینئر پولیس اہلکاروں کی خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے حوالے کردی گئیں

پنجاب کے دو سینئر پولیس اہلکاروں کی خدمات فائل فوٹو پنجاب کے دو سینئر پولیس اہلکاروں کی خدمات

لاہور: حکومت پنجاب نے صوبائی دارالحکومت کے دو سابق پولیس افسران (سی سی پی او) کی خدمات کو اسلام آباد میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے حوالے کردیا۔

وفاق کو بھیجے گئے 21 گریڈ اور 20 گریڈ کے افسران بی اے ناصر اور ذوالفقار حمید تھے۔

بی اے ناصر ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسٹیبلشمنٹ اور ذوالفقار حمید ایڈیشنل آئی جی آپریشنز کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔

دونوں افسران نے سی سی پی او لاہور کی حیثیت سے خدمات انجام دی ہیں اور یہ افواہیں ہیں کہ انہیں مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں زیادہ تر خدمات پنجاب میں سرانجام دینے کی وجہ سے منتقل کیا گیا ہے۔

در حقیقت ذوالفقار حمید کا نام مسلسل 10 سال سے زیادہ عرصے تک پنجاب میں خدمات انجام دینے والے 24 ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) کی فہرست میں چوتھے نمبر پر تھا۔

سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) کی تیار کردہ فہرست کے مطابق ذوالفقار حمید نے 20 سال 20 ماہ اور 26 دن مسلسل پنجاب میں مختلف اہم عہدوں میں خدمات انجام دی ہیں۔

بنیادی طور پر مسلم لیگ (ن) کے سابقہ دور حکومت میں انہوں نے علاقائی پولیس آفیسر مقرر ہونے کے علاوہ دو بار سی سی پی او کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔

حکومت پنجاب کے معتبر ذرائع نے بتایا ہے کہ انہی بنیادوں پر صوبے سے باہر منتقلی کے لیے مزید ناموں پر تبادلہ خیال کیا جارہا ہے اور حکومت ان کی جگہ دوسرے صوبوں سے منتخب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) انعام غنی کو مستقبل میں ہونے والے تمام تبادلوں کے سلسلے میں اعتماد میں لیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے انہیں چند روز قبل ایک میٹنگ کے لیے بلایا تھا جہاں ان پولیس افسران کے تبادلوں پر گفتگو ہوئی تھی جو مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں صوبے میں تعینات تھے اور پارٹی کے لیے نرم گوشہ رکھتے تھے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ پنجاب حکومت نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں 20 گریڈ کے 3 سینئر پولیس افسران کا مطالبہ کیا ہے جن میں خیبر پختونخوا کے ڈی آئی جی احمد جمال الرحمن، بلوچستان کے آغا یوسف اور شارق جمال شامل ہیں۔

دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے پانچ سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) اور ایک سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) کی پوسٹنگ کا معاملہ پہلے ہی حکومت پنجاب سے منظوری کے لیے زیر التوا ہیں۔

معلومات رکھنے والے سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ پنجاب حکومت کے 50 کے قریب پولیس افسران کی سی سی پی او عمر شیخ کے خلاف اپنی ناراضی ظاہر کرنے کے لیے سی پی او میں ایک میٹنگ کے بعد حالیہ سرگرمیوں سے حکومت پنجاب ناخوش ہے۔

انہوں نے سی سی پی او کے خلاف قرار داد تیار کیا تھا اور سابق آئی جی پی شعیب دستگیر کی حمایت کی تھی۔ صوبے سے باہر تبادلے کو بھی اسی واقعے سے جوڑا جارہا ہے۔