پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے سینیٹ کمیٹی کا ٹیلی میٹری نظام لانے پر غور

پانی کی منصفانہ تقسیم فائل فوٹو پانی کی منصفانہ تقسیم

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل نے پانی مختص کرنے اور ٹیلی میٹری سسٹم کی عدم تنصیب سے متعلق صوبوں کی شکایات پر تشویش کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ 15 دن کے اندر ٹیلی میٹری سسٹم کا پی سی ون پیش کریں۔

سینیٹر شمیم آفریدی کی زیرصدارت اجلاس میں پانی کی تقسیم سے متعلق شکایات پر سینیٹر گیان چند کی زیر صدارت پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں تحریک پیش کی گئی۔

سینیٹر گیان چند نے کہا کہ پانی کی تقسیم پر بار بار شکایات آ رہی ہیں اور بین الصوبائی ہم آہنگی خطرے میں پڑ گئی ہے کیونکہ حکام تقریباً دو دہائیوں سے ٹیلی میٹری کے منصوبے پر عمل درآمد نہیں کر سکے ہیں۔

کمیٹی کا موقف تھا کہ جب تک اعداد و شمار مستند نہیں ہوتے ہیں تب تک پانی کی تقسیم مناسب نہیں ہوسکتی ہے۔

انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کے چیئرمین زاہد عباس نے کمیٹی کو بتایا کہ 2004 میں ٹیلی میٹری کا نظام نصب کیا گیا تھا تاہم وہ ناکام رہا۔

انہوں نے کہا کہ صوبوں میں تقسیم کے لیے دستیاب پانی کی مجموعی مقدار 118 ملین ایکڑ فٹ (ایم اے ایف) تھی لیکن اصل اوسط دستیاب پانی 104 ایم اے ایف ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمی کا حساب لگانے کے بعد باقی پانی صوبوں میں بانٹ دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مزید ڈیموں کی تعمیر کے بعد پانی کی دستیابی میں بہتری آسکتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سینیٹر زاہد عباس نے کہا کہ 2004 میں نصب ٹیلی میٹری نظام نے فنی خرابی کی وجہ سے کام نہیں کیا تھا۔

ارسا نے ورلڈ بینک کے قرض کے ذریعے گزشتہ سال دوبارہ ٹیلی میٹری منصوبے پر کام کیا اور دو کمپنیوں نے بولی میں حصہ لیا تھا تاہم چند تکنیکی مسائل کی وجہ سے ارسا نے دوبارہ بولی کا فیصلہ کیا تھا لیکن عالمی بینک نے اس پر اعتراض کیا اور یہ قرضہ ہی منسوخ کردیا تھا۔

بعدازاں وزارت آبی وسائل کے اجلاس میں انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کے داخلی وسائل پر ٹیلی میٹری سسٹم نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

ارسا کے چیئرمین نے زور دیا کہ واپڈا کو پی سی ون تیار کرتے وقت گزشتہ ٹیلی میٹری سسٹم کے تجربے کو دھیان میں رکھنا چاہیے۔

زاہد عباس نے یاد دلایا کہ 'ارسا 1994 میں قائم کیا گیا تھا لیکن 2012 تک اس کے اپنے وسائل نہیں تھے جس کے بعد حکومت نے صوبوں اور جوہری بجلی گھروں کو پانی کے استعمال کے سیس کی اجازت دی تھی'۔

انہوں نے کہا کہ ٹیلی میٹری سسٹم کے لیے 67 کروڑ روپے درکار ہیں جبکہ اس وقت 86 کروڑ روپے دستیاب ہیں جو سیس کے ذریعہ جمع کیے گئے ہیں اور واٹر ریگولیٹر فی الحال واپڈا سے پی سی ون کا منتظر ہے۔

ادارے کے رکن نے کمیٹی کو بتایا کہ وہ 10 دن میں پی سی ون کو حتمی شکل دے دیں گے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ پی سی ون کو حتمی شکل دینے میں تاخیر گزشتہ سسٹم کی ناکامی کی وجوہات سے متعلق مشاہدات شامل ہونے کی وجہ سے ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ نظرثانی شدہ ڈیزائن میں اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ کم سے کم انسانی مداخلت ہو۔