انگلیوں کے پسینے سے بجلی بنانا ممکن ہوگیا

سائنس ہر روز ہر شعبے میں اور ہر وقت ترقی کر رہی ہے اور زندگی کو آسان بنانے کے لئے نت نئے طریقوں کا استعمال کیا جارہا ہے۔
سائنس دانوں نے اپنی تحقیق کی مدد سے ایک ایسے آلے کی تیاری کو ممکن بنایا ہے کہ جس کو استعمال کر کے انگلیوں کے پسینے سے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔
پسینے سے بجلی بنانے والا یہ آلہ بایوفیول سیل (بی ایف سی) کہلاتا ہے اور یہ سوتے میں بھی بجلی بناتا رہے گا، اس کے علاوہ کی بورڈ ٹائپنگ سے بھی یہ بجلی بناسکے گا۔
اس آلے کو بنانے والے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ چھونے، ٹی وی دیکھنے اور کھانے پینے کے دوران بجلی بناسکیں۔
انہوں نے بتایا کہ ماہرین چاہتے ہیں کہ لوگ شعوری طور پر برقی رو بناسکیں اور یہی وجہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو بہت انقلابی قرار دیا جارہا ہے۔
انگلیوں کے پور پسینے سے بھرپور ہوتے ہیں کہ ہم اشیا کو تھام سکیں، فی منٹ چند مائیکرولیٹر پسینہ ایک انگلی سے خارج ہوسکتا ہے لیکن اس پسینے سے 300 ملی جول فی مربع سینٹی میٹر بجلی بنائی جاسکتی ہے۔
تجرباتی طور پر سائنسدانوں نے وٹامن سی محسوس کرنے والا ایک آلہ کامیابی سے چلایا ہے جسے تھوڑی سی تبدیلی کے بعد خون میں شکر ناپنے والے گلوکوز میٹرمیں ڈھالا جاسکتا ہے۔