Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home/ch51dm/public_html/templates/interactive/lib/menu/GKBase.class.php on line 114

Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home/ch51dm/public_html/templates/interactive/lib/menu/GKHandheld.php on line 76
پیپلزپارٹی کو شوکاز نوٹس نہیں بھیجا بس وضاحت مانگی ہے ، شاہد خاقان عباسی

پیپلزپارٹی کو شوکاز نوٹس نہیں بھیجا بس وضاحت مانگی ہے ، شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماء سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کو شوکاز نوٹس نہیں بھیجا بس وضاحت مانگی ہے۔ تفصیلات کے مطابق اسلام اۤباد میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شوکاز نوٹس کوئی قانونی چارہ جوئی نہیں ہے ، تاہم پاکستان پیپلز پارٹی نے اتحاد کا بھروسہ توڑا ہے جس پر پیپلزپارٹی کو شوکاز نوٹس نہیں بھیجا گیا بس ان سے وضاحت مانگی ہے۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ نیب کی سرکس چلتی رہے گی اور یہ بہت پرانی ہے، نیب کا مقصد ہی سیاستدانوں کو ٹارگٹ کرنا ہے، یا ملک چلا لیں یا پھر نیب کو چلا لیں ، براڈ شیٹ سکینڈل میں موساوی نے کہا کہ وزرا پیسے مانگتے رہے، حکومت چیئرمین نیب کو بلیک میل کر رہی ہے، ملک میں بڑے بڑے سکینڈل ان کو نظر نہیں آتے۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماء نے کہا کہ حکومت روز ویلٹ ہوٹل کے معاملے پر وضاحت کرے کہ آخر یہ ہے کیا ، روز ویلٹ ہوٹل پاکستان کی ملکیت ہے اور اس کی حقیقت عوام کو بتانا ضروری ہے ، اس کے علاوہ حکومت چینی اور آٹا امپورٹ کرنے کا اسکینڈل عوام کے سامنے نہ رکھ سکی ، حکومت کشمیر کے معاملات بھی عوام کے سامنے نہ رکھ سکی لیکن ملک کے اثاثے پر ہی حکومت کوئی عوام کے سامنے وضاحت کردے۔

خیال رہے کہ اس سے پہلے ن لیگی رہنماء شاہد خاقان عباسی نے کہا تھا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے پیپلزپارٹی اور اے این پی کو شوکاز نوٹسز جاری کردیے، دونوں جماعتوں کے جواب کو پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں پیش کیا جائےگا، پیپلزپارٹی اور اے این پی چاہیں تو ان نوٹسز کو پبلک بھی کرسکتی ہیں۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدرپی ڈی ایم کی منظوری سے پیپلز پارٹی اور اے این پی کو شوکاز نوٹسز جاری کردیئے ہیں ، نوٹسز واٹس ایپ پر بھیجے گئے ہیں ، نوٹسز کی اصل کاپی بھی دے د ی جائے گی ، نوٹسز پر پیپلزپارٹی اور اے این پی کو 7 دن میں جواب دینا ہے، ان کا جو بھی جواب آئے گا اس کو پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں پیش کیا جائےگا ، سابق وزیر اعظم نے کہا کہ پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس ائندہ کی کارروائی پر فیصلہ کرے گا ، نوٹس پر لکھا ہے کہ پی ڈی ایم اس نوٹس کو پبلک نہیں کرے گی، دونوں جماعتیں چاہیں تو ان نوٹسز کو پبلک کرسکتی ہیں۔