Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home/ch51dm/public_html/templates/interactive/lib/menu/GKBase.class.php on line 114

Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home/ch51dm/public_html/templates/interactive/lib/menu/GKHandheld.php on line 76
کورونا وبا کی وجہ سے لاکھوں ملاح سمندروں میں پھنس گئے

کورونا وبا کی وجہ سے لاکھوں ملاح سمندروں میں پھنس گئے


نیویارک(نیوز ڈیسک) کورونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے تجارتی مال برداری کے لئے استعمال ہونے والے بحری جہازوں کے لاکھوں ملاح سمندری پانیوں میں پھنسے ہوئے ہیں ان ملاحوں کی مدد کے لئے ایک مہم چلائی جا رہی ہے جس پر دستخط کرنے والے اسے ایک ایسا انسانی بحران قرار دے رہے ہیں جس سے دنیا بھر میں ضروری اشیا کی رسد اور ترسیل میں مشکلات پیش آرہی ہیں.
امریکی جریدے نیویارک ٹائمزکے مطابق اس مہم کے ارکان نے دنیا بھر میں حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مال بردار بحری جہازوں پر کام کرنے والے16 لاکھ ملاحوں کا حوصلہ بڑھائیں انہیں سرحدوں کے آر پار جانے کی اجازت دیں اور ترجیحی بنیادوں پر انہیں ویکسین فراہم کی جائے. واضح رہے کہ دنیا کا 80 فیصد تجارتی سامان سمندری راستوں سے اپنی منزل پر پہنچتا رہے رپورٹ کے مطابق اس بحران کی زد میں آنے والوں میں بھارتی شہریت کے حامل رتیش مہرا بھی ہیں جنہوں نے گزشتہ سال جولائی میں چار ماہ کے لیے، اسی ہزار ٹن وزنی مائع گیس کے ٹینکر کا کپتان بننے کا کنٹریکٹ کیا تھا تاہم 8 ماہ کے بعد بھی وہ اور ان کا عملہ اپنے جہاز ہی پر پھنسے ہوئے تھے کیونکہ وہ عالمی وبا کی وجہ سے اپنے جہاز سے اتر نہیں سکتے تھے.
رتیش مہرا کو مارچ کے اواخر میں جہاز سے اتر نے کی اجازت ملی انہیں دو ہفتوں کے لازمی قرنطینہ میں رہنا پڑا جس کے بعد وہ دہلی میں اپنے خاندان سے جا ملے مہرا کہتے ہیں کہ وہ اب نہیں چاہتے کہ ان کے بیٹے اس پیشے کو اپنائیں عام حالات میں،سمندری جہازوں کے ملاح چار سے چھ ہفتے کا معاہدہ کرتے ہیں جس کے بعد عملے کو تبدیل کر دیا جاتا ہے. اس کے بعد ان کے لیے ٹرانزٹ ویزوں کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ جہاز سے اترنے کے بعد اپنے ملک واپس جا سکیں وہ جہاز سے صرف اسی وقت اتر سکتے ہیں جب ان کی جگہ لینے کے لیے دوسرا عملہ پہنچ جائے انٹرنیشنل چیمبر آف شپنگ کے سیکرٹری جنرل گائے پلیٹ کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر عائد کی جانے والی بعض پابندیوں سے بحری جہازوں کے عملے کو تبدیل کرنے کا عمل مشکلات کا شکار ہے.
ایک اندازے کے مطابق، اس سال موسم خزاں تک، سمندروں کے پانیوں میں40 ہزار سے زیادہ ایسے ملاح موجود ہوں گے جنہوں نے اپنے معاہدوں کی مدت سے کہیں زیادہ وقت اپنے بحری جہاز پر گزارا ہو گا جبکہ ان میں سے کئی ایک سال سے کہیں زیادہ عرصہ یعنی18 مہینوں سے اپنے بحری جہازوں پر موجود ہیں. گائے پلیٹ نے کہا کہ 2020 کے اواخر میں صورت حال کچھ بہتر ہوئی تھی مگر سفری پابندیوں اب پھر سے لوٹ رہی ہیں ہانگ کانگ کے پانیوں میں درجنوں جہاز لنگر انداز ہیں عالمی وبا کی وجہ سے ان کا عملہ ساحل پر نہیں جا سکتا.
ہانگ کانگ سی فیررز مشن کے پادری سٹیفن ملر نے ایک چھوٹی کشتی کی مدد سے چند اشیا موبائل فون، سم کارڈ، اور کھانے پینے کی چھوٹی موٹی چیزیں ان ملاحوں کو پہنچانا شروع کیں تو وہ ان کی ذہنی حالت کے بارے میں تشویش کا شکار تھے حال ہی میں بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں، کارپوریشنوں، ٹریڈ یونینوں اور بحری جہازوں پر مزدوری کرنے والوں کی لیبر تنظیموں نے سمندری ملاحوں کی فلاح اور عملے کی تبدیلی کے لئے نیپچون ڈیکلیریشن کے نام سے ایک مہم پر دستخط کئے ہیں تاکہ دنیا بھر میں حکومتوں پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ ملاحوں کو یعنی ضروری کارکن تسلیم کریں اور انہیں سفر کی اجرت کے ساتھ ساتھ ترجیحی بنیاد پر ویکسین لگائی جائے.