Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home/ch51dm/public_html/templates/interactive/lib/menu/GKBase.class.php on line 114

Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home/ch51dm/public_html/templates/interactive/lib/menu/GKHandheld.php on line 76
سندھ کا بین الصوبائی ٹرانسپورٹ کے بعد ٹرین اور ہوائی سفر بھی بند کرنے کا مطالبہ

سندھ کا بین الصوبائی ٹرانسپورٹ کے بعد ٹرین اور ہوائی سفر بھی بند کرنے کا مطالبہ

کراچی (نیوز ڈیسک) کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر صوبہ سندھ نے بین الصوبائی ٹرانسپورٹ کے بعد ٹرین اور ہوائی سفر بھی بند کرنے کا مطالبہ کردیا۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی نے کہا ہے کہ سندھ کے بارڈر پر لوگوں کی اسکریننگ کرنا مشکل کام ہوگا ، لوگ آتے جاتے رہیں گے تو وائرس لوگوں کو نقصان پہنچائے گا ، ا س لیے ضروری ہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا سے بین الصوبائی ٹرانسپورٹ ، ٹرین اور ہوائی سفر بند کیا جائے۔
پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ کورونا کے حوالے سے ماہرین کی رائے لیتے ہیں ، کورونا صورتحال پر سندھ میں پنجاب اور خیبر پختونخوا والے حالات نہیں ، تاہم روزانہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ سندھ آتے اورجاتے ہیں ، اگر لوگ ایسے ہی آتے جاتے رہیں گے تو وائرس لوگوں کو نقصان پہنچائے گا ، اور اگر صحیح اقدام نہ کیے گئے تو خدشہ ہے کہ سندھ میں بھی صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔
یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ حکومت نے کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر ملک میں بین الصوبائی ٹرانسپورٹ بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ، حکومت کا کہنا ہے کہ عوام ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں کر رہے، جب کہ ٹرانسپورٹ اداروں کی جانب سے بھی خاطر خواہ اقدامات نہیں اُٹھائے گئے ،جس کی وجہ سے کورونا کیسز کی شرح میں غیر معمولی حد تک اضافہ ہو گیا ہے، اسی وجہ سے اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ ملک میں ہفتے میں دو دن بین الصوبائی ٹرانسپورٹ بند رہے گی۔
حکومت اعلامیے کے مطابق بین الصوبائی پبلک ٹرانسپورٹ ہفتے اور اتوار کو بند رکھی جائے گی ، ذرائع نے بتایا ہے کہ انسداد کورونا کے ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے کورونا کیسز میں اضافے کے باعث بین الصوبائی ٹرانسپورٹ ہفتے میں دو دن بند رکھنے کا فیصلہ کرلیا ، تاہم این سی او سی کے مطابق ٹرینیں 70 فیصد مسافروں کے ساتھ فعال رہیں گی۔