کشمیری مسلمانوں کے ساتھ بھارت کا 7 عشروں سے غیرانسانی سلوک جاری، انصاف کی دہائیاں

بھارتی فوج کے ہاتھوں 3 کشمیری نوجوانوں کا جعلی پولیس مقابلے میں قتل کا معاملہ، بے گناہ نوجوانوں کےوالدین کی دہائی عالمی میڈیا تک رسائی لےگئی۔
کشمیری نوجوانوں کے لواحقین اب تک نہ صرف انصاف کے متلاشی بلکہ اپنے پیاروں کی میتوں کے بھی منتظر ہیں، نوجوان اطہر مشتاق وانی، زبیر احمد لون اور اعجاز مقبول طالب علم تھے۔ جنہیں سری نگر کے مضافات میں بھارتی فوج نے ماورائے عدالت بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں قتل ہونے والے بے گناہ نوجوانوں کے والدین کی دہائی عالمی میڈیا میں بھی پہنچ گئی اورمظلوم کشمیریوں کی آہیں دنیا بھر میں سنی جا رہی ہیں، ایک ہفتہ پہلے برطانوی پارلیمنٹ میں بھی مقبوضہ کشمیر پر زبردست بحث کی گئی کہ جس میں برطانوی پارلیمان کے ممبران نے کھل کر بھارتی ریاستی دہشت گردی اور کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی مذمت کی، تاہم بے ضمیرمودی سرکارکےکانوں پرجوں تک نہیں رینگی۔ مقبوضہ کشمیر میں اب تک ہزاروں ماورائے عدالت ہلاکتیں ہو چکی ہیں، کشمیری مسلمانوں کے ساتھ 7 عشروں سے غیرانسانی سلوک کرنے والے بھارت کا مکروہ اور بھیانک چہرہ دنیا کے سامنے بالکل عیاں ہو چکا ہے۔