سندھ میں اساتذہ۔۔۔ کرپشن کے استاد ؟؟؟؟

چیف سیکریٹری سندھ کی ۔۔۔
ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں بڑا انکشاف ہوا ۔۔۔
قوم کا مستقبل کن کے ہاتھوں میں ہے ۔۔۔ قوم کے معمار کن کے زیر تربیت ہیں ۔۔۔
نیب سے پلی بارگین کرنے والے افسران سے متعلق رپورٹ میں ۔۔۔
میں بتایا گیا کہ ۔۔۔ چار سو پینتیس کرپٹ سرکاری افسران و ملازمین میں سے ۔۔۔
دو سو سترہ صرف اساتذہ نکلے ۔۔۔۔چیف سیکریٹری سندھ کی رپورٹ کے مطابق۔۔۔
سندھ میں اساتذہ کرپشن کرنے میں سر فہرست ہیں ۔۔۔
چار سو پینتیس کرپٹ سرکاری افسران کے خلاف ۔۔۔ کارروائی سے متعلق ۔۔۔
چیف سیکریٹری نے عدالت کو بتایا کہ ۔۔۔ اب تک پچپن سرکاری افسران کو ۔۔۔
بڑی سزائیں دی گئیں ہیں ۔۔۔
دس سرکاری افسران جبری ریٹائرد۔۔ بارہ سرکاری افسران کی تنزلی ۔۔۔
انتیس سرکاری افسران کو برطرف اور۔۔۔ تہتر سرکاری افسران کے۔۔
انکریمنٹ روک لیے گئے ہیں ۔۔۔
مزید دو سو اڑتیس سرکاری افسران و ملازمین کے خلاف کارروائی جاری ہے ۔۔
چیف سیکریٹری نے محکمہ تعلیم سے بڑی تعداد میں ۔۔۔
اساتذہ کے نکلنے پر ۔۔ بحران کا خدشہ بھی ظاہر کردیا۔۔۔
جن کرپٹ اساتذہ کو نکالا گیا ہے ۔۔۔ ان میں سے زیادہ کا تعلق ۔۔۔
پرائمری اور سرکاری اسکولوں سے ہے ۔۔۔
عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق ۔۔۔
چیف سکریٹری نے تمام سیکریٹریز ہدایات دی ہیں کہ ۔۔۔ تیس دن میں ۔۔
بقیہ کرپٹ افراد کے خلاف جلد از جلد کارروائی مکمل کی جائے ۔۔۔
چیف سیکریٹری نے عدالت میں کہا کہ ۔۔۔ ساٹھ روز میں ۔۔۔ عدالتی فیصلے پر۔۔۔
عمل کرتے ہوئے کرپٹ افسران کے خلاف کارروائی مکمل کرلی جائے گی ۔۔۔
سندھ ہائی کورٹ میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما کنور نوید جمیل۔۔۔
نے درخواست دائر کی تھی کہ ۔۔۔ سندھ میں پانچ سو سے زائد کرپٹ افسران دوبارہ ۔۔۔
تعینات کردیئے گئے ہیں ۔۔۔ تمام کرپٹ افسران کو عہدوں سے ہٹایا جائے ۔۔۔
کیوں کہ رضا کارانہ رقوم واپس کرنا کرپٹ کا اعتراف ہے۔۔۔
عدالتی فیصلے کے بعد کرپٹ افسران کو عہدے نہیں دے جا سکتے۔
تمام کرپٹ افسران کو عہدوں سے ہٹایا جائے۔