25 ارب روپے کا ٹیکس نوٹس دینے کے بعد ایف بی آر نے جاز کا مرکزی دفتر سیل کردیا

 ٹیکس نوٹس فائل فوٹو ٹیکس نوٹس

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے لارج ٹیکس پیئر یونٹ (ایل ٹی یو) نے سال 2018 کی مد میں 25 ارب 39 کروڑ 30 لاکھ روپے ٹیکس ادا نہ کرنے کے الزام میں موبائل کمپنی جاز کے کاروباری مرکز کو سیل کردیا۔

قبل ازیں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 138 (1) کے تحت پاکستان موبائل کمیونکیشن لمیٹڈ(پی ایم سی ایل) کے پرنسپل آفیسر عامر حفیظ ابراہیم کو نوٹس جاری کیا تھا جس میں 28 اکتوبر کی دوپہر ایک بجے تک ٹیکس واجبات ادا کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

جاز کی ترجمان عائشہ سروری نے ڈان کو بتایا کہ ان کی کمپنی کو ایف بی آر کی جانب سے گزشتہ روز دوپہر کو نوٹس موصول ہوا، جاز نے واجب الادا ٹیکس کی قانونی تشریح پر ٹیکس جمع کروایا، ہم اپنی قانونی پابندیوں کے تحت نظرِ ثانی کریں گے اور اقدامات اٹھائیں گے اور اس مسئلے کے جلد حل کے لیے تمام اداروں کے ساتھ تعاون کریں گے۔

یہ کیس ملک بھر میں دیودار پرائیویٹ لمیٹڈ کے 13 ہزار ٹاور اثاثوں کے حصول سے متعلق ہے، مذکورہ کمپنی پی ایم سی ایل کی ذیلی کمپنی ہے جس سے اسلام آباد ایل ٹی یو نے ٹیکس کے ساتھ ساتھ 2019 کا سرچارج بھی طلب کیا ہے۔

تاہم کمپنی کا مؤقف تھا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 97 کے تحت ہولڈنگ کمپنی کی جانب سے ذیلی کمپنی کو اثاثے فروخت کرنے سے حاصل ہونے والی آمدن قابل ٹیکس نہیں ہے۔

اس ضمن میں جاز کا آڈٹ کرنے والی کمپنی کے شراکت دار شبر زیدی نے کہا کہ ’اس دفعہ کی منسب تشریح ہونے کی ضرورت ہے کیوں کہ اس کو سمجھنے میں کچھ مسائل آتے ہیں‘۔

کمپنی کے ملازمین نے شناخت پوشیدہ رکھنے کی شرط پر ڈان کو بتایا کہ نوٹس بھجوانے کے کچھ ہی دیر بعد ایف بی آر(اہلکار) جاز کے دفاتر میں گھس گئے، ’وہ ہمارے بینکس بھی گئے اور تمام اکاؤنٹس منجمد کرنے کا مطالبہ کیا‘،

پی ایم سی ایل کی جانب سے ایف بی آر کے ٹیکس ریکوری کے مطالبے کو کمشنر انکم ٹیکس کے پاس اپیل کر کے چیلنج کی جس پر کمشنر نے ڈپارٹمنٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔

بعدازاں پی ایم سی ایل نے کمشنر کے فیصلے کے خلاف اِن لینڈ ریونیو کے اپیلیٹ ٹریبونل میں درخواست دی اور وہاں بھی کمشنر کا فیصلہ برقرار رکھا گیا تھا جس کے فوراً بعد ایف بی آر نے کارروائی کی۔

عائشہ سرور نے بتایا کہ پی ایم سی ایل نے ایل ٹی یو کی جانب سے ریکوری کے نوٹس کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا ہے تا کہ اس کارروائی کو روکا جاسکے اور اس کی سماعت آج ہوگی۔

ایل ٹی یو کے نوٹس کے مطابق سال 2018 کے لیے قابل ادا ٹیکس 22 ارب 3 کروڑ 20 لاکھ روپے ہے جبکہ 3 ارب 36 کروڑ 10 لاکھ روپے کا سرچارج علیحدہ ہے۔

نوٹس میں خبردار کیا گیا کہ ادا نہ کرنے کی صورت میں کمپنی کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جس میں منقولہ اورغیر منقولہ املاک کی فروخت اور 6 ماہ قید کی سزا ہوسکتی ہے۔