کابینہ نے گندم کی امدادی قیمت میں اضافے کا فیصلہ 2 روز کیلئے مؤخر کردیا

 امدادی قیمت فائل فوٹو امدادی قیمت

اسلام آباد: وفاقی کابینہ کے اجلاس میں مہنگائی اور اشیائے خورونوش کی قلت پر گرما گرمی دیکھنے میں آئی اور وزیراعظم عمران خان نے قیمتوں میں اضافے کو قابو کرنے میں ناکامی پر کچھ وزرا کی سرزنش بھی کی۔

اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے ضروری اشیائے خورونوش بالخصوص گندم اور چینی درآمد کر کے ان کی قیمتیں دوبارہ پرانی سطح پر لانے کے عزم کا اظہار کیا۔

اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی ای) کی جانب سے گندم کی امدادی قیمت 14 سو روپے فی من (40 کلو) سے بڑھا کر 16 سو روپے کرنے کا فیصلہ 2 روز کے لیے مؤخر کردیا اور وزیراعظم نے ہدایت کی اس معاملے پر تمام صوبوں سے مشاورت کی جائے۔

اجلاس میں شریک ایک فرد نے ڈان کو بتایا کہ وزیر غذائی تحفظ فخر امام، وزیر اقتصادی امور خسرو بختیار، سیکریٹری خوراک، اور ٹریڈنگ کارپوریشن پاکستان کے عہدیداران کو کابینہ کے کچھ اراکین کی جانب سے گھریلو اشیا کی انتہائی بلند قیمتوں پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں اضافے کے معاملے پر کابینہ واضح طور پر تقسیم تھی اور زیادہ تر نے اس بات سے اتفاق کیا کہ روزمرہ کی اشیا کی قیمتیں عوام کی پہنچ سے دور ہوگئی ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان متعلقہ وزیروں اور وفاقی سیکریٹریز کو تنبیہہ کرتے ہوئے دہرایا کہ وہ اپریل سے متعلقہ اتھارٹیز کو قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے اقدامات کرنے کا کہہ رہے ہیں لیکن کسی نے کان نہیں دھرے۔

ذرائع نے کہا کہ وزیراعظم کا یہ خیال تھا کہ اگر بروقت اقدامات کرلیے جاتے تو صورتحال مختلف ہوتی۔

کابینہ کی ایک اور رکن وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے اشیائے خورونوش کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کے ذمہ داروں کے خلاف ٹھوس کاررروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے یقین دہانی کروائی کہ آٹے اور چینی کی درکار مقدار درآمد ہونے کے بعد قیمتیں اپنی پرانی سطح پر واپس آجائیں گی۔

خیال رہے کہ اس وقت ملک میں چینی 65 روپے کے بجائے 110 روپے جبکہ نان جو پہلے 10 روپے میں دستیاب تھا اب 15 روپے میں ملتا ہئ۔

وزیراعظم عمران خان نے اجلاس کو بتایا کہ حالیہ دنوں میں پنجاب میں چینی کی کھپت کئی گنا بڑھ گئی ہے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ یا تو اسے ذخیرہ کیا جارہا ہے یا دوسرے علاقوں میں اسمگل ہورہی ہے۔

اجلاس میں ایک مرتبہ پھر گندم بحران کا ذمہ دار سندھ حکومت کو ٹھہرایا گیا جس نے گزشتہ برس سے گندم نہیں خریدی۔

ذرائع کے مطابق کابینہ اراکین کا کہنا تھا کہ ’سندھ میں گندم کی بلند قیمتوں کی وجہ سے پنجاب اور ملک کے دیگر حصوں سے تاجروں نے منافع کمانے کے لیے اسے سندھ بھیجا‘۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ صورتحال اس وقت مزید خراب ہوگئی جب گندم کی کٹائی کے وقت بھرپور فصل کی توقع تھی لیکن شددید بارشوں نے اسے نقصان پہنچایا۔

تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ درآمد کا عمل مکمل ہونے کے بعد جنوری 2021 میں بحران ختم ہوجائے گا۔

کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ اس وقت ملک میں2 لاکھ 66 ہزار939 میٹرک ٹن چینی دستیاب ہے، پرائیویٹ سیکٹر کی جانب سے 99 ہزار639 میٹرک ٹن چینی درآمد کی جا چکی ہے اور نومبر کے مہینے میں مزید 52 ہزار 951میٹرک ٹن چینی دستیاب ہوگی۔

اجلاس میں عید میلادالنبیﷺ کے موقع پر قیدیوں کی سزاؤں میں تخفیف کی تجویز کو منظور کرلیا گیا، اس کے علاوہ فرانس میں گستاخانہ خاکوں کا معاملہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی ) کے پلیٹ فارم سے اٹھانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔