عالمی بینک سے توانائی سے متعلق ایک ارب 15 کروڑ ڈالر کے دو معاہدوں پر دستخط

عالمی بینک فائل فوٹو عالمی بینک

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت ملک کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے پرعزم ہے، پاکستان عالمی بینک کے ساتھ شراکت داری کو بہت اہمیت دیتا ہے۔

انہوں نے یہ بات جمعرات کو یہاں پاکستان اور عالمی بینک کے درمیان توانائی سے متعلق ایک ارب 15 کروڑ ڈالر کے دو معاہدوں پر دستخط کی تقریب کے موقع پر کہی۔

یہ دونوں معاہدے خیبرپختونخوا میں ہائیڈرو پاور اور متبادل توانائی کے منصوبوں سے متعلق ہیں، خیبرپختونخوا میں ہائیڈرو پاور اور متبادل توانائی کے منصوبوں پر 45 کروڑ ڈالر لاگت آئے گی۔

خیبرپختونخوا میں ہائیڈرو پاور اور متبادل توانائی کا منصوبہ ایک ترقیاتی پروگرام ہے جس سے صوبہ میں متبادل توانائی کی وسیع صلاحیت سے استفادہ میں مدد ملے گی۔

پراجیکٹ کے تحت 88 میگاواٹ کے گبرال کلام ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور 157 میگاواٹ کے مدیان ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تعمیر کی جائے گی ان منصوبوں سے خیبرپختونخوا کی انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کو متبادل توانائی کے وسائل کے فروغ کے لئے ایک عالمی سطح کا ادارہ بنانے میں مدد ملے گی۔

داسو ہائیڈرو پاور (فیز I) پراجیکٹ پر 700 ملین ڈالر لاگت آئے گی۔

سیکریٹری اقتصادی امور نور احمد نے حکومت پاکستان کی جانب سے معاہدے پر دستخط کئے جبکہ خیبرپختونخوا، واپڈا اور نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کے نمائندوں نے متعلقہ پراجیکٹ ایگریمنٹس پر دستخط کیے۔

عالمی بینک کی جانب سے کنٹری ڈائریکٹر نجے بنحسینی نے دستخط کیے۔

وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق وفاقی وزیر برائے معاشی امور مخدوم خسرو بختیار، وزیر بجلی عمر ایوب خان، خیبرپختونخوا کے وزیر اعلی محمود خان اور مشیر ہمت اللہ خان بھی موجود تھے۔

وفاقی وزیر اقتصادی امور مخدوم خسرو بختیار نے عالمی بینک سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان نے حکومت میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات جاری رکھنے کا عزم کر رکھا ہے۔

ہاؤسنگ سیکٹر پروجیکٹ کا جائزہ
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی برائے ہائوسنگ، کنسٹرکشن و ڈویلپمنٹ کے ہفتہ وار اجلاس میں وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ کنسٹرکشن شعبہ سے منسلک 112 افراد اور کمپنیاں ایٍف بی آر کے ساتھ رجسٹر ہو چکے ہیں جو 123 منصوبوں پر کام کریں گے۔

چیئرمین ایف بی آر نے آن لائن رجسٹریشن سسٹم اور آگاہی سیمینار کے حوالہ سے بریفنگ دی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں آگاہی سیمینار منعقد کئے جا چکے ہیں۔

چیف سیکرٹری سندھ نے اجلاس کو بتایا کہ سرمایہ کاروں کے لئے ون ونڈو پورٹل کام کر رہا ہے جس کے تحت سندھ میں 19 منصوبوں کی منظوری دی جا چکی ہے، 75 منصوبوں کے لئے این او سی جاری کئے جا چکے ہیں۔

منصوبوں کی نگرانی کے لیے کمیٹی نوٹیفائی کر دی گئی ہے جس میں پرائیویٹ سیکٹر کے نمائندے بھی شامل ہیں۔

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے اجلاس کو بتایا کے صوبہ میں ہائوسنگ اور کنسٹرکشن کے منصوبوں کی کل سرمایہ کاری 83 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے اور سیمنٹ، اینٹوں اور سریے کی فروخت میں خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔

گورنر سٹیٹ بینک نے بتایا کے آسان اقساط کے حوالہ سے تمام پرائیویٹ بینکوں سے مشاورت کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے اور ان کے تحفظات دور کئے جا چکے ہیں۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اجازت نامہ مہیا کرنے کے عمل کو شفاف، آسان اور کم مدت بنایا جائے تاکہ سرمایہ کاروں میں آسانی ہو۔

صنعتکاروں سے ملاقات
ایک علیحدہ ملاقات میں وزیر اعظم نے کہا کہ جو ملک سرمایہ کار اور صنعت کار کو سہولیات مہیا کرتے ہیں، وہی ملک ترقی کرتے ہیں۔

وزیر اعظم نے انڈسٹری اور یونیورسٹیوں کے درمیان ریسرچ و ٹریننگ کے حوالے سے روابط قائم کرنے پر زور دیا تاکہ نوجوانوں کو فنی مہارت حاصل ہوسکے۔

وزیراعظم میڈیا آفس سے جاری بیان کے مطابق وفد میں ثنا آللہ چودھری (یونایئٹڈ موٹر سائیکل)، عبدالرحمان (چیئرمین پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹیو پارٹس و ایکسیسوریز مینوفیکچررز)، معین ظفر (پاکستان فرنیچر مینوفیکچررز ایسوسی ایشن)، میاں افتخار احمد (پاکستان ٹائیر مینوفیکچررز ایسوسی ایشن)، مرتضی پراچہ (آل پاکستان ایمپورٹرز و مینوفیکچررز)، عامر اللہ والا (موبائل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن)، سہیل الطاف ( آٹوموٹوز)، احتشام الدین (پاکستان پلاسٹک مینوفیکچررز ایسوسی ایشن) اور سردار یاسر الیاس ( اسلام آبادچیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری) شامل تھے۔

وزیر اعظم کا شیلٹر ہوم کا دورہ
وزیر اعظم نے اسلام آباد کے سیکٹر جی نائن (پشاور موڑ) میں پناہ گاہ کا دورہ کیا اور سہولیات کا جائزہ لیا۔

وزیر اعظم نے پناہ گاہ میں رہنے والوں کے ساتھ کھانا بھی کھایا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ وہاں کے بے گھر لوگوں کو بہترین ممکنہ سہولیات فراہم کریں۔

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر، پاکستان بیت المال کے منیجنگ ڈائریکٹر عون عباس بپی اور سینیٹر فیصل جاوید بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔