ماں کی راج دلاری،،بابا کی جان، زینب آج سب کو روتا چھوڑ گئی۔۔

ہائے زینب فائل فوٹو ہائے زینب

تحریر:زاہد خٹک


چارسدہ کی پیاری،،ماں کی راج دلاری،،بابا کی جان۔۔ زینب آج سب کو روتا چھوڑ گئی۔۔ وہ جو ہنستی تو سارا جگ ہنستا،،ایسے جیسےگلشن میں بہار آگئی،،پھولوں پر نکھار آگیا ،،وہ جو چلتی تو ایسا لگتا جیسا زمانہ تھم سا گیا،،وہ جس نے ابھی سکول جانا تھا،، ماں سے لنچ باکس بنوانا تھا،،پاپا سے بستے کی فرمائش کرنا تھی۔۔ آج سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر پریوں کے دیس میں جا بسی۔۔
چارسدہ میں زندگی رواں دواں تھی،،پھر اچانک آسماں سرخ ہوا،،زمین بھی کانپ اٹھی جب پولیس کو کھیتوں سے ننھی زینب کی مسخ شدہ لاش ملی۔ وہ زینب جو ہنستی کھیلتی گھر سے نکلی۔۔وہ کیا جانتی تھی کہ اس کے ننھے قدم شیطان صفت انسان کے پھیلائے جال کی طرف بڑھ رہے ہیں،،وہ تو جنت کی پری تھی،،اسے کیا معلوم تھا کہ خدا کی بنائی مخلوق میں بھی بھیڑیئےچھپے بیٹھے ہیں۔ جس نےدیکھتےہی دیکھتے معصوم پھول کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا ڈالا۔۔ایسا مسلا کہ ننھی کلی پتیوں کی مانند بکھر گئی۔۔ ہائے ظالم تو زمین میں کیوں نہ دھنس گیا۔۔تجھے ایسے گھناؤنےعمل سےپہلے موت کیوں نہ آگئی۔۔ننھی زینب کی جگہ تیرا کلیجہ کیوں نہ نکل گیا۔کتوں نے تیرا جسم کیوں نہ نوچا۔۔
ہائے۔زینب۔۔تیرا دکھڑا کسے سناؤں،،،زخم دل کے کسے دکھاؤں،،تیرا قاتل نکلا بھی تو کون تیرا اپنا ہمسائیہ،،کہتے ہیں ہمسایہ"ماں جایا"ہوتا ہے۔مگر یہاں تو ہمسایہ ہی نقب زن نکلا،، یہ بھی اطلاعات ہیں کہ
زینب کا مبینہ قاتل بھی آخر کار پکڑا ہی گیا۔۔۔ ملزم نے اعتراف جرم بھی کرلیا،،آلہ قتل بھی دیدیا،،
زینب کا ایک جوتا بھی مل گیا۔ جو شاید ساری زندگی ظالم کے ضمیر پر برستا رہے گا۔
پہلے قصور کی زینب مسلی گئی،،آج چارسدہ کی بیٹی قتل ہوئی،،سفید کفن میں لپٹی ننھی پری الوداع ہوئی تو سب کو رلا گئی۔۔اور کتنی مائیں اس کرب سے گزریں گی،،کتنے باپ ہیں جنہیں اس پل صراط سے گزرنا ہوگا۔؟۔روز حشر جب سوال ہوگا تو ہم کیا جواب دیں گے۔؟۔ اس کا ذمہ دار کون ہے۔۔معاشرے کے مردہ ڈھیر سے ہمیں اور کتنی بیٹیوں کے لاشے اٹھانا ہوں گے۔؟۔روز قیامت کیا ہماری بیٹیاں ہمارا گریبان نہیں پکڑیں گی۔۔اب بھی وقت ہے۔۔ عہد کے سلطان کو سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔۔ایسے درندوں کو سرعام پھانسی دینا ہوگی تاکہ آئندہ کوئی ہماری عزتوں کی طرف نظر اٹھانے کی جرات نہ کرے۔کسی اور کی زینب اپنے ماما،،بابا کو روتا نہ چھوڑ جائے۔قارئین

اس سے زیادہ لکھنا میرے بس کی بات نہیں۔میں بھی باپ ہوں۔۔ میرے بھی دل کانپتا ہے