پیپل اور نیم کے پودے انسانی بقا کے لئے کیوں ضروری ہے؟ جانیے اس خصوصی رپورٹ میں

یپل اور نیم کے پودے فائل فوٹو یپل اور نیم کے پودے

رپورٹ مجیب اللہ کنبھر سانگھڑ

 

یپل اور نیم کے پودے انسانی بقا کے لئے ضروری ہے۔


پیپل اور نیم دو ایسے منفرد درخت ہیں جو 24 گھنٹے آکسیجن پیدا کرتے ہیں۔باقی تمام درخت دن کو آکسجن اور رات کو کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا کرتے ہیں۔

اسی خوبی کی وجہ سے ڈاکٹر اور حکیم رات کو درخت کے نیچے سونے سے منع کرتے ہیں سوائے نیم اور پیپل کے درخت کے۔
دوسری خوبی ان دونوں درختوں یعنی نیم اور پیپل کی یہ ہے کہ دونوں فضا میں موجود ہر قسم کی پولوشن یعنی انسان کو نقصان دینے والی تمام گیسوں مثلا کاربن ڈائی آکسائیڈ،کاربن مانو آکسائیڈ،سلفر ڈائی آکسائیڈ،امونیا۔

وغیرہ کے علاوہ ایسی تمام زہریلی گیسوں کو جذب کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں جو مختلف کیمیائی کھادوں اور کیڑے مار ادوایات کے بخارات کی صورت میں فضا میں موجود ہوتی ہیں۔
یہ دونوں ہی درخت دوسرے درختوں سے اہم کیوں ہیں؟؟
-دونوں ہر لمحے آکسیجن پیدا کرتے ہیں
- دونوں پودے ہرلمحے ہوا کو صاف کرتے ہیں۔
آنے والے وقت میں ہماری نسلوں کو مندرجہ ذیل مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
1- پانی کی کمی کا مسئلہ
2:- آبادی کے لحاظ سے آکسیجن کی کمی کا مسئلہ
3:-فضائی پولوشن کا مسئلہ
آئیں اپنی اولاد اور اپنی آنے والی نسلوں کی بقا کے لئے کم ازکم ایک پودا نیم یا پیپل کا لگا دیں جو ہمارے لئے بھی صدقہ جاریہ ہو گا۔۔
ہمارے یہ اختیار میں ہے کہ ہم پودے لگا سکتے ہیں۔اپنے لئے اور انسانیت کے لئے۔ ہمیں عملی طور پر اس پر عمل کرنا ہو گا۔
آنے والی نسلوں کی بقا کے لیے شجر کاری کریں