خان کےمعاونین کے اثاثے بےنقاب

تحریر ۔زاہد خٹک

بال بال قرض میں جکڑی پاکستانی قوم کے حکمران اربوں روپے کےمالک نکلے۔۔ وزیراعظم عمران خان کے اطراف بیٹھے لوگ بھی اربوں پتی ہیں۔۔وزیراعظم کے 15معاونین میں سے 5 دوہری شہریت کے مالک ہیں جبکہ 2گرین کارڈ ہولڈر ہیں۔۔ پہلے بات کرتے ہیں ان لوگوں کی جو رہتے تو پاکستان میں ہیں کماتے اور کھاتے بھی پاکستان سے ہیں مگر حقیقت میں پاکستان کے رہائشی ہی نہیں۔۔ یعنی اگر ہم غلط نہیں تو کہہ سکتے ہیں کہ جو کمایا۔۔ باہر کے بینکوں میں رکھوایا۔۔

کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے نیشنل سیکیورٹی ڈویژن معید یوسف امریکا کے رہائشی ہیں۔معاون خصوصی پٹرولیم ندیم بابر اورمعاون خصوصی برائے امور توانائی شہزاد سید قاسم بھی امریکا کے شہری ہیں۔۔معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گل امریکی گرین کارڈ ہولڈر نکلے۔معاون خصوصی اوورسیز زلفی بخاری برطانوی شہریت رکھتے ہیں۔ معاون خصوصی ڈیجیٹل پاکستان تانیہ ایدریس کے پاس کینیڈا کی پیدائشی شہریت ہے اور وہ سنگاپور کی مستقل رہائشی ہیں۔ معاون خصوصی برائے پارلیمانی امور ندیم افضل کینیڈا میں مستقل رہائش کا اسٹیٹس رکھتے ہیں۔
اب کچھ ذکر کرتے ہیں ان شخصیات کی کمائی کا۔۔۔معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر 2 ارب 75 کروڑ روپے کے مالک ہیں جب کہ ان کی پاکستان اور بیرون ملک جائیدادیں ہیں اور اس کے علاوہ بیرون ملک 2 درجن سے زائد کمپنیز میں شیئرز ہیں۔
مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد بھی اربوں پتی ہیں۔۔ ایک ارب 35 کروڑ سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں۔ان کے پاس ساڑھے 3 کروڑ کی زرعی اراضی ہے جب کہ شئیرز کی مد میں 52 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کررکھی ہے۔2 کروڑ 93 لاکھ کے سیونگ سرٹیفکیٹ ہیں۔اہلیہ کے نام پر ساڑھے 7 کروڑ روپے کی جائیداد ظاہر کی ہے۔ ان کی اہلیہ 40 کروڑ روپے سے زائد اثاثوں اور52 لاکھ مالیت کے 100 تولے سونے کی بھی مالکہ ہیں۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات عاصم سلیم باجوہ 15 کروڑ روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں۔۔دستاویزکے مطابق کراچی، لاہور اسلام آباد میں 5 پلاٹس ہیں۔ رحیم یار خان اور بہاولپورمیں 65 ایکڑ اراضی کے بھی مالک ہیں۔شہباز گل 12کروڑ روپے کے قریب اثاثوں کے مالک ہیں۔۔پاکستان میں ایک پلاٹ، فارم ہاؤس اور بیرون ملک ایک گھر کے مالک ہیں۔امریکا کے گرین کارڈ ہولڈر ہیں۔۔
برطانوی شہریت رکھنے والے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز زلفی بخاری پاکستان میں 1300 کنال سے زائد اراضی کے مالک ہیں۔اسلام آباد میں 34 کنال اراضی پر مشتمل پلاٹس ہیں۔لندن میں 48 لاکھ 50 ہزار پاؤنڈز کی جائیداد کے مالک ہیں۔ بیرون ملک 5 کمپنیوں کے شیئرز ہیں۔زلفی بخاری کی اہلیہ کے پاس 5 لاکھ پاؤنڈ مالیت کا سونا ہے، پاکستان میں 24 لاکھ روپے بینکوں میں موجود ہیں۔زلفی بخاری کی بیرون ملک بینکوں میں 17 لاکھ پاونڈ رقم موجود ہے۔
معاون خصوصی برائے پاور ڈویژن شہزاد سید قاسم کے دبئی میں تین گھروں کی مالیت دو کروڑ درہم سے زائد ہے، امریکا میں پراپرٹی کی قیمت 8 لاکھ 65 ہزار ڈالر ہے، امریکی بینک اکاؤنٹس میں 21 لاکھ ڈالر موجود ہیں۔دبئی کےبینک اکاؤنٹس میں 18 لاکھ درہم الگ سے رکھے ہیں۔کابینہ ڈویژن کے مطابق معاون شہزاد سید قاسم کے پاس 97 لاکھ روپے مالیت کے چار پلاٹ ہیں، شہزاد سید قاسم نے پاکستان میں 12 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔
مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان وراثتی طور پر حاصل کی گئی ساڑھے 16 کروڑ روپے کی جائیداد کے مالک ہیں۔ سپین میں ایک کروڑ روپے کی جائیداد ہے۔ 20 لاکھ روپے کے زیورات،،ایک کروڑ 68 لاکھ روپے مالیت کی 6 گاڑیاں ہیں۔کاروبار میں 47 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کررکھی ہے۔بابر اعوان نے 5 کروڑ سے زائد نقد رقم جبکہ 2 کروڑ سے زائد رقم بنک اکاونٹس میں ظاہر کی ہے۔
معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا کے اثاثوں کی مالیت 6 کروڑ 3 لاکھ روپے ہے۔ عثمان ڈار 6 کروڑ 18 لاکھ سے زائد مالیت کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے اکاؤنٹس میں ایک کروڑ 48 لاکھ روپے ہیں۔وہ پانچ لاکھ کےزیورات کی بھی مالکہ ہیں۔ معاون خصوصی شہزاد ارباب کے اثاثوں کی مالیت 12 کروڑ 73 لاکھ روپے سے زائد ہے۔ملک امین اسلم کی اہلیہ کےنام پر92لاکھ روپےکی3گاڑیاں ہیں۔ ملک امین اسلم ایک لاکھ کےزرعی آلات،ڈیڑھ لاکھ کےفرنیچرکےبھی مالک ہیں اور انہوں نے ایک کروڑ47 لاکھ کابینک بیلنس اثاثہ جات میں ظاہرکیا۔۔معاون خصوصی یار محمد رند کے اثاثوں کی مالیت 81 کروڑ 24 لاکھ روپے ہے۔ اسی طرح معاون خصوصی علی نواز اعوان 13 کروڑ 48 لاکھ روپے مالیت کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ ان کی اہلیہ کے پاس 75 تولے سونا موجود ہیں۔
غریب ملک کے نمائندے کتنے امیر ہیں۔؟ یہ سب نے سنا تو تھا ہی آج سرکاری طور پر دیکھ بھی لیا۔۔ تنقید اپنی جگہ۔۔ مگر ایک بات تو ماننا پڑے گی کہ وزیراعظم عمران خان نے ایک اور وعدہ پورا کرتے ہوئے سب کے اثاثے قوم کے سامنے پیش کر دیئے ہیں۔