اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

کالم نگار ۔زاہد خٹک ۔

 

بچھڑاکچھ اس اداسےکہ رت ہی بدل گئی اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

آہ۔۔ کہ میرے"ہمدرد۔۔ہمایوں"بھی داغ مفارقت دے گئے۔۔پشتو ادب کے معروف شاعر اور میرے محسن ہمایوں ہمدرد بھی داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔نام ہمایوں۔۔تخلص ہمدرد تھا۔ اپنے ہمدرد کی باتیں یاد کرتا ہوں تو آنکھ بھر آتی ہے۔۔ہمایوں صاحب سےبالمشافہ ملے ایک مدت ہوئی۔چند روز قبل ٹیلیفون پران کی موت کی خبر ملی تو دل بوجھل سا ہوگیا۔ آج ایک اور ساتھی ساتھ چھوڑ گیا۔۔یہ زندگی بھی ایک قافلے کی مانند ہے،،منزل کی جانب بڑھتے بڑھتے جانے کتنے ساتھی ساتھ چھوڑ گئے۔کچھ لوگ اتنے خاص ہوتے ہیں انہیں چاہ کر بھی نہیں بھلایا جاسکتا۔ ہمایوں ہمدرد بھی ان میں سے ایک تھے۔ آج اکیلا بیٹھا انہیں کی یاد میں گم تھا کہ ماضی کا ایک قصہ یاد آیا اور لبوں پر ہلکی سی تبسم۔۔

یہ کیسی بے خیالی تھی۔۔کیسا بانکپن۔۔ کہ اپنے علاوہ نظروں میں کوئی اور جچھتا ہی نہ تھا۔24برس پرانی بات ہے جب ہمایوں ہمدرد کےساتھ پہلی بارپاکستان ٹیلی ویژن میں ملاقات ہوئی۔۔پی ٹی وی میں داخلے کیلئے بھی بھاری سفارش کا ہونا ضروری تھا۔۔ میں بھی کسی تعلق سے وہاں جا پہنچا۔۔سر پر بھوت سوار تھا کہ کسی طرح پشتو ڈرامے میں فن کے جوہر دکھانا ہیں۔پی آر او صدیق اکبر(مرحوم)کا کمرہ میرا ڈیرہ ہوا کرتا تھا۔کبھی کبھار انتظار گاہ میں ہی بیٹھا رہتا۔1995ء کا سنہری دور تھا،،کریم خان صاحب کی پروڈکشن میں پشتو ڈرامے کی تیاری تھی۔ میں بھی ان سے ملنے چلا گیا۔ پتہ چلا کہ کریم صاحب مصروف ہیں۔۔ کچھ دیر انتظار کیلئے کہا گیا۔۔ صوفے پر بیٹھا کہ ایک سانولے سے رنگ کا انسان اندر آیا۔۔سلام دعا کےبعد حال احوال پوچھا۔۔انہوں نے اپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا۔"میں ہمایوں ہمدرد ہوں"۔ مجھے لگا جیسے وہ مذاق کر رہے ہوں۔ میرے ذہن میں تو ان کا خاکہ ہی کچھ اور تھا۔۔ لمبا،چوڑا،صاف،سفید اور دبنگ انسان۔ اور جانے کیا کیا۔ میں نے ان کی بات سنی ان سنی کردی۔۔میں نے بھی ہمایوں ہمدرد کا نام ہی سن رکھا تھا۔۔ چہرے سے تو آشنائی تھی نہیں۔بے ساختہ منہ سے نکل گیا۔ آپ اور ہمدرد۔۔؟۔۔کیوں دوسروں کے نام کے ساتھ اپنا نام جوڑتے ہو یار۔۔ ایسا نہ کریں۔۔

کچھ دیر بعد اندر سے آواز آئی۔زاہد خٹک۔۔ جی جناب۔۔ صاحب نے آپ کو بلایا ہے۔ پروڈیوسر صاحب کے کمرے میں پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ سانولی رنگ والا نوجوان کمرے میں داخل ہوتا ہے اور کریم خان صاحب اٹھ کر اس کا استقبال کرتے ہیں۔۔ فخریہ انداز میں کہتے ہیں"وہ آئے ہمایوں ہمدرد"اور گلے سے لگا لیا۔۔میری تو سانسیں جیسے اٹک سی گئیں۔۔رنگ فق ہوگیا،،چہرے پرلالی ابھر آئی۔۔شرمندگی کے بھی آثار نمودار ہونے لگے۔۔دماغ میں ایک ہی فلم چل رہی تھی کہ"یار یہ تو میری سیریل کے رائٹر ہیں اور میں انہیں کا مذاق اڑا بیٹھا۔اب کیا ہوگا۔۔وہ میرے قریب آئے،،کندھے پر ہاتھ رکھا اور بڑے شفیق انداز میں بولے۔۔ یہ لو اپنا سکرپٹ اور اچھی طرح سے پڑھ لو۔ میں تو ذہن میں کچھ اور ہی سوچ رہا تھا کہ ہمایوں صاحب جانے کیا کیا صلواتیں سنائیں گے۔۔ مگر ان کا لہجہ تو ایسے تھا جیسے کوئی ہمدرد۔۔ یہاں سے شروع ہوا ہمارا دوستی کا سفر جو بعد میں بھائی بندی میں تبدیل ہوگیا۔۔
ہمایوں ہمدرد کا مکان چھوٹا تھا مگر دل اور دسترخوان بہت کشادہ تھا۔۔مہمان نوازی کا تو کیا ہی کہنا۔۔اکثر شاعری کی محفلیں سجاتے،،غالب ترین،زبیرحسرت میں رونق بخشنے آتے۔انہیں دیکھتے ہوئے میرے اندر کا شاعر بھی کبھی کبھار باہر آجاتا۔۔ کچھ لکھتا تو اصلاح کیلئے ان کی خدمت میں پیش کرتا۔۔مجھے یاد ہے 2010کا وہ سیلاب،،جو نوشہرہ میں گھر ہی نہیں ہماری خوشیاں بھی بہا لے گیا۔پی ٹی وی کیلئے بطور نیوز رپورٹر اس پر طویل عرصہ کام کیا۔ پھر قسمت نے اڑان بھری اور انگلینڈ چلا آیا۔۔ابتدائی دنوں میں تو ہمایوں صاحب سے رابطہ رہا،،پھر زندگی کی دوڑ میں سب پیچھے ہی پیچھے جاتا رہا۔کئی سال بعد شوبز کی دنیا کے ایک ڈائریکٹر اور پروڈیوسر اظہربوبی سے ملاقات ہوئی۔۔ باتوں باتوں میں ہمایوں کا بھی زکر چھڑ گیا۔۔ان سے نمبر لیا۔پرانے دوست کو فوری فون گھمایا۔دونوں جانب سے مسکراہٹوں اور نیک خواہشات کا تبادلہ خیال ہوا۔۔ اسی دوران پتہ چلا کہ ہمایوں ہمدرد مردان کالج میں پروفیسر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔۔ پھر طویل عرصہ وہی صحافت کی چلتی ٹرین اور میں۔۔دیار غیر میں اپنوں کی خبر نہ پیاروں کے احوال کا علم۔۔
چند روز قبل نوشہرہ سے تعلق رکھنے والے ۔جماعت اسلامی کے سابق سرگرم رکن ہمارے صحافی دوست سید ندیم ٹیپو نے کے ذریعہ علم ہوں کہ ہمایوں کی طبیعت ٹھیک نہیں۔ ان کے بیٹے سے بات ہوئی۔۔میرے ہمدرد بیہوشی کی حالت میں تھے۔۔ادھر ادھر فون گھمایا۔۔اپنے ذرائع استعمال کئے کہ چلو کسی طرح اپنے دوست کی کوئی مدد کرسکوں۔ اور کچھ نہیں تو طبی امداد ہی بہتر مل جائے۔ مگر رب کو کچھ اور منظور تھا۔۔میرے ہمدرد کو اپنے پاس بلالیا۔۔ایک نہ ایک دن تو سب کو ہی جانا ہے۔اپنے دوست کیلئے دست دعا بلند کرتاہوں تو دل سے یہی دعا نکلتی ہے اے میرے رب میرے ہمدرد سے ہمدردی برتنا۔اس نے دنیا میں جتنی غربت دیکھی آخرت میں اسے اپنے رحمت سے اتنا ہی مالا مال کرنا۔۔ہمایوں ہمدرد دنیا سے گئے ہیں میرے دل سے نہیں۔۔ بھیگی آنکھوں کے ساتھ کی نظر اک شعر کرتا ہوں۔۔یقیناً وہ آسمان پر چمکتے ستارے کی مانند ہمیں دیکھ رہے ہیں۔۔
چہ خشکی دا داب د بچو خاور دہ
کہ حائے د ارازنی غواڑچہ دکڑمہ