"وزیر"کی چھٹی۔۔ بنگش آگئے۔۔۔

کالم نگار ۔زاہد خٹک ۔


"وزیر"کی چھٹی۔۔بنگش آگئے۔۔۔

صاف چلی۔۔ شفاف چلی۔۔ تحریک انصاف چلی۔۔ اس نعرے کو لے کر سیاست کی راہداریوں سے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے والی پارٹی شاید آگے بڑھتے بڑھتے اپنے مقصد کو پیچھے راہ میں ہی چھوڑ آئی۔۔حکومت ملنے کے بعد صاف دامن لوگوں پر بھی کرپشن کے چھینٹے پڑنے لگےہیں۔۔ پہلے خان صاحب کے قریب ترین۔۔ جہانگیر ترین پر کرپشن کا داغ لگا،، وہ ملک چھوڑ کر لندن جا بیٹھے۔۔ہر دو سے تین ماہ بعد کپتان اپنی ٹیم کے بندوں کو ادھر سے ادھر کر رہے ہیں۔۔ مگر کرپشن کا داغ ہے کہ چھوٹنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔۔وفاقی کابینہ میں اکھاڑ پچھاڑ کرکے ہٹتے ہیں تو صوبوں میں کچھ نہ کچھ سامنے آ جاتا ہے۔۔ آج کل پاکستان میں آڈیو لیکس نے تہلکہ مچا رکھا ہے۔۔چند روز قبل عظمیٰ کاردار کو اپنی پارٹی رکنیت گنوانا پڑی تو آج خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات اجمل وزیر کی چھٹی کرا دی گئی۔۔ان پر اشتہارات کی مد میں کمیشن لینے کا الزام ہے۔
اجمل وزیر اوراشتہارات کی کمپنی کے مالک کے درمیان گفتگو ہوئی،،جی ایس ٹی اور ٹیکسز میں چھوٹ سے متعلق پوچھا گیا۔۔وہ کچھ یوں ہے۔
جی ایس ٹی کتنا ہوتا ہے؟۔"مالک کمپنی۔۔ہر صوبے کا جی ایس ٹی الگ ہوتا ہے۔؟ اجمل وزیر کا جواب۔۔ آپ نے اس دن کہا کہ 2 فیصد ٹیکس کٹے گا۔؟
مالک کمپنی نے کہا اشتہارات کا پورا میڈیا پلان بنایا ہوا ہے،2 نہیں سر10 فیصد دوں گا، جی ایس ٹی نہیں کٹے گا تو میں زیادہ دوں گا۔
یہ آڈیو تلوار بن کر اجمل وزیر کے عہدے پر چل گئی،، اور یوں پی ٹی آئی کے ایک اور کھلاڑی کو ٹیم سے نکال دیا گیا۔۔ الزامات کی پٹاری کھل چکی۔۔اجمل وزیر کی جانب سے الزامات کی تردید سامنے آئی ہے۔۔ انہوں نے موقف اپنایا ہے کہ مختلف آڈیو ٹیپس کو جوڑ کر من مرضی کا بیان نکالا گیا ہے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے معاملے کو نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ساتھ ہی آڈیو کی فرانزک کا بھی کہہ دیا ہے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اشتہاری کمپنی کے مالک کی ڈیل کے علاوہ بھی اجمل وزیر کی کرپشن کے پکے ثبوت ہیں جو عمران خان تک پہنچا دیئے گئے ہیں۔۔ اجمل وزیرکی جگہ کامران بنگش کو وزیراطلاعات کا اضافی چارج دیدیا گیا ہے۔کامران بنگلش پہلے ہی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے بلدیاتی حکومت، انتخابات اور دیہی ترقی ہیں۔
کامران بنگش نوجوان اور محنتی انسان ہیں مگر ذرائع نے کچھ خدشات کا بھی اظہار کیا ہے۔۔کہا جا رہا ہے کہ جو بھی وزیر، وزیراعلی کے قریب ہوتا یا کارکردگی دکھانے کی کوشش کرتا ہے اسے ایک سازش کے تحت اگے پیچھے کر دیا جاتا ہے۔؟۔ کیا کامران بنگش بھی کسی سازش کا شکار ہوتے ہیں یا شکاری خود اپنے جال میں پھنستا ہے۔ اس کا فیصلہ وقت پر ہی چھوڑ دیجیئے۔۔
اجمل وزیر کے معاملے پر سوشل میڈیا میں بھی خوب لے،دے ہورہی ہے۔۔ کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ خان صاحب نے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔۔ کرپشن پر ایکشن لیا۔۔ اور اپنی ہی ٹیم کے رکن کو نکال باہر کیا۔۔کچھ صارفین نے پی ٹی آئی سرکار کے خوب لتے لئے،،ماضی کے قصے بھی نکال لائے۔۔ سوالات کی بوچھاڑ کردی۔۔خیر سوشل میڈیا پر جو ہے سو ہے پاکستان ہو یا بیرون ملک،، سوال تو اٹھیں گے ناں۔۔ تو چلئےرخ کرتے ہیں ایوان وزیراعظم کا۔۔خان صاحب کسی نے سچ ہی کہا ہے یہ اقتدار پھولوں کی نہیں کانٹوں کی سیج ہے۔۔ مگر اس پر بیٹھنے کا شوق سب کو ہوتا ہے۔ اب اقتدار ملا ہے تو جواب بھی دینا ہوں گے۔ کیونکہ کنٹینر پر چڑھ کر آپ ہی کہا کرتے تھےکہ "اوپر بیٹھا بندہ ٹھیک ہو تو نیچے ٹیم خود بخود ٹھیک ہو جاتی ہے۔ اب نیچے ٹیم خراب ہے تو کیا اوپر بیٹھا بندہ خراب نہیں ہوا؟۔۔ملک سے کبھی چینی غائب تو کبھی گندم،کبھی آٹے کا بحران ہے تو کہیں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا رونا۔۔ ملک کا شاید ہی کوئی ایسا ادارہ ہو جہاں بیٹھے لوگوں کے منہ سے"کرپشن کی رال"نہ ٹپک رہی ہو۔ابھی تو آپ کی حکومت کو 2سال ہوئے ہیں۔۔کرپشن کا یہی حال رہا تولگتا ہے پانچ سال میں تاریخ رقم ہو گی۔۔