اداروں کی تباہی۔۔انجام گلستاں کیا ہوگا

کالم نگار ۔زاہد خٹک

اداروں کی تباہی۔۔انجام گلستاں کیا ہوگا

پی آئی اے۔۔اپنے وطن کی اپنی ایئرلائن۔۔جس کے نام کے کبھی دنیا میں ڈنکے بجا کرتے تھے آج بدنامی کی دلدل میں دھنستی جا رہی ہے۔وہ پی آئی اے جس پر ہر پاکستانی کو ناز تھا اور ہے۔۔آج اسی لاجواب سروس کو جعلی لائسنس کےاسپیڈ بریکر نے بریک لگارکھے ہیں۔۔حکومتی رپورٹ کے مطابق 236پائلٹس کی ڈگریاں جعلی ہیں جن میں 141صرف پی آئی اے کے ہیں۔۔ 28کے لائسنس فوری طور پر منسوخ کر دیئے گئےہیں۔ جعلی لائسنس کا طوفان اٹھا تو یورپی یونین ایئرسیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے کا آپریشن 6ماہ کیلئے معطل کر دیا۔۔برطانوی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بھی پروازیں معطل کردیں۔ برمنگھم، لندن اور مانچسٹرسے پی آئی اے کی اڑان روکی جارہی ہے۔ملائیشیا بھی ہاتھ میں پابندی کی تلوارلئےگھوم رہا ہے۔ پاکستانی پائلٹس اوراسٹاف کوفوری طور پرکام سے روک دیا گیا۔ متحدہ عرب امارات نے بھی پاکستان کو خط لکھ کر پائلٹس کےلائسنسوں کی تصدیق مانگ لی ہے۔ وہ ایئرلائن جو کبھی عروج پر بھی تھی آج زوال کی داستان بنتی جارہی ہے۔ ہمارے بہادراورمثالی پائلٹس بھی شک کےدائرے میں کھڑےہیں۔
افسوس صد افسوس۔۔ کہ پی آئی اے کو تباہ کرنےوالے کوئی اور نہیں ہمارے اپنے ہیں۔۔ اربوں روپے منافع دینےوالا ادارہ خسارے میں کیسے چلا گیا۔۔؟۔ملکی خزانے کو چوہوں کی طرح کترنےوالوں نے پی آئی اے کے خزانوں کو بھی کتر ڈالا۔؟۔اپنی جیبیں بھرتے بھرتے ادارے کو کنگال کر دیا۔۔سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں کی گئیں۔۔ملازمین کی فوج ظفر موج ہے۔۔وہ نکمے افسران جنہوں نے اپنی تنخواہ کیلئے جہاز تک بیرون ملک گروی رکھوا دیا۔ ہمارے طیارے ٹین، ڈبے کے بھاؤ بیچ دیئے۔۔خدا کی پناہ ایف اے پاس کو پائلٹ لگا دیا گیا۔۔اگر میں یہ کہوں کہ پی آئی اے میں بھی عطائیوں کی بھرمار ہے تو کچھ غلط نہ ہوگا۔۔یہ سب لوگ ادارے کی بدنامی کیلئے کم تھے کہ اب جعلی لائسنس کا معاملہ بھی سامنے آگیا۔۔ دنیا بھر میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہورہی ہے،،بیرون ملک سیکڑوں فضائی میزبان روزگار ہورہے ہیں۔۔
ماضی کے جھرونکوں میں جھانکیں تو 1988سے لیکر2000تک پی آئی اے نے دنیا بھر میں اپنا سکا جمایا۔۔بڑے سے بڑا افسر بھی پی آئی اے میں سفر کو ترجیح دیتا اور فخریہ انداز میں بتاتا کہ اس نے اپنی ایئرلائن سے سفر کا لطف اٹھایا۔۔ اس کے اعلیٰ معیاراور لاجواب سروس کی تعریفیں کرتے نہ تھکتا۔لاجواب لوگوں کی باکمال سروس کی تاریخ شاندار خدمات سےبھری پڑی ہے۔۔ حج کا موقع ہو یا عمرے کی سعادت۔۔دنیا میں کہیں بھی پاکستانی خطرے میں ہوں قومی ایئر لائن ہر وقت اڑان کیلئے تیار رہتی۔ پشاورکی صفا اور مروا کو مفت علاج کیلئے پاکستان سے لندن کون لایا۔۔ پی آئی اے۔۔اگر دیار غیرمیں کوئی مر جاتا تو اسے اپنے وطن کی مٹی نصیب ہوتی۔ کس کی وجہ سے ۔وہ بھی پی آئی اے۔۔ کیونکہ ہمارا قومی ادارہ یہ کام بلاوضہ انجام دیتا ہے۔۔کمائی کے ساتھ خدمت کو بھی نصب العین بنایا۔

اب بھی وقت ہے،، حکومت کو اپنا قبلہ درست کرنا ہوگا۔۔کالی بھیڑوں کو ادارے سے ضرور نکالئے مگر ایمانداروں کو تو بدنامی کا طوق نہ پہنایئے۔ آج وفاقی وزراء نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے ماضی کے حکمرانوں کو ذمہ دار ٹھہرادیا۔۔شہزاداکبر،علی زیدی اور شبلی فراز نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اداروں کوتباہ کرنےمیں ماضی کے حکمرانوں کا ہاتھ ہے،، گندےانڈےباہرنکال پھینکیں گے،،پی آئی اے ایک بار پھر بڑی ایئرلائنزمیں شامل ہوگی،جوپائلٹ جہاز اڑا رہے ہیں وہ کلیئر ہیں۔۔
مان لیا۔۔ مگر حضور کیا ارکان اسمبلی جعلی ڈگریاں لیکرایوانوں میں نہیں بیٹھے۔۔ آپ کے وزیرہوابازی غلام سرور جو جعلی لائسنس کا راگ الاپ رہے ہیں ان کی اپنی ڈگری مشکوک ہے۔۔ہمیں سب سے پہلے ان لوگوں کو نکال باہر کرنا ہوگا جو جعلی ڈگری لیکر مقدس ایوان میں آئے۔۔کھوج لگانا ہوگا کہ جعلی لائسنسوں کا گندا دھندا آخر کرتا کون رہا۔۔ جعلی ڈگری بنانے والے اس قوم کو گھن کی طرح کھا گئے۔۔ان کے چھوڑے کیڑے آج بھی ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کےترجمان عبداللہ حفیظ خان آج بھی پرامید ہیں کہ ماضی میں جو ہوا وہ اب نہیں ہوگا۔۔پی آئی اے ایک بار پھرترقی کی اڑان بھرےگی۔۔اوردنیا بھر کیلئے مثالی ثابت ہوگی۔۔ہرپاکستانی اپنے اداروں کو ترقی کرتا دیکھنا چاہتا ہے کہ ناں کہ بازار میں بکتے دیکھنے کا خواہشمند۔۔