ہماری پولیس۔۔ ہمارا فخر۔۔

کالم نگار ۔۔زاہد خٹک ۔

 

ہماری پولیس۔۔ ہمارا فخر

 


تہکال میں بنی ویڈیو کا تہلکہ جاری ہے۔۔عامرنامی افغان شہری کی بدزبانی اور اس کے بعد جاری برہنہ ویڈیو نے خیبرپخونخوا پولیس کی کارکردگی کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔۔ عامر کی بدزبانی غلط۔۔ چند پولیس اہلکاروں کی جوابی کارروائی بھی غلط۔۔آئی جی نے نوٹس لیا۔۔ ایس ایس پی تبدیل۔۔ ایس ایچ او بدل دیا۔۔ملزمان سلاخوں کے پیچھے چلے گئے۔۔ معاملہ جوڈیشل انکوائری کی طرف چلا گیا۔۔ اب قانون کو اپنا کام کرنے دیجیئے۔۔ کیا چند افراد کا پشاور کی سڑکوں پر ہر روز اک نیا تماشہ لگانا درست ہے۔۔؟۔ روزانہ ٹریفک جام کرنا۔۔ سرکاری ملاک کی توڑ پھوڑ۔۔ قانون کے رکھوالوں پر پتھربرسانا درست ہے۔؟۔امن کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ دینے والوں کو یوں جگہ جگہ برا بھلا کہنا درست ہے۔؟۔کیا چند اہلکاروں کی وجہ سے خیبرپختونخوا کی مثالی پولیس پر انگلی اٹھانا درست ہے۔۔ ہرگز نہیں۔۔ کوئی بھی محب وطن پاکستانی اس بات کی اجازت نہیں دے گا۔۔تھانہ تہکال پر حملہ کرنے والے کون تھے۔۔ کہاں سے آئے۔۔ ان کا مقصد کیا تھا۔۔کیا سرحد پار کی دہشت گردی ہمارے ہاں مسلط کرنا مقصود تو نہ تھا۔۔اگر ایسی بات سوچی بھی تو جان لو۔ یہ غیور صوبے کی غیورپولیس ہے۔۔ عامر تہکالی کا تعلق افغانستان سے ہے،،یہ بھی اطلاع ہے کہ اسے اور اس کے خاندان والوں نے سیاسی پناہ کیلئے جرمن سفارتخانے سے رابطہ کر رکھا ہے۔ ہم نے افغانوں کو اپنے ملک میں پناہ دی،، برسوں ان کی خدمت کی،، اپنا پیٹ کاٹ کر ان کا پیٹ بھرا۔۔آج چند شرپسند ہمارے ملک کو بری نگاہ سے دیکھیں بھی تویہ ہمارے لئے ناقابل برداشت ہے۔۔ کیا چند اہلکاروں کی خاطر ہم ہزاروں پولیس اہلکاروں پر بدنامی کا داغ لگادیں۔ کیا ہم انکی قربانیوں کو بھول جائے
۔ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔
خیبرپختونخوا پولیس مثالی تھی اور ہے۔۔یہ طرہ امتیاز اسی صوبے کے جوانوں کے حصے آیا ہے۔۔ جنہوں نے اپنے خون سے امن کی آبیاری کی۔۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ڈیڑھ ہزار سے زائد افسروں اور جوانوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔پاکستان کیا دنیا بھر کی کسی بھی پولیس فورس نے آج تک اتنی قربانیاں نہیں دیں۔گریڈ 21کے کمانڈنٹ ایف سی صفوت غیور ہمارا فخر ہیں۔۔ایڈیشنل آئی جی اشرف نور،سی سی پی او پشاورملک سعد اور ڈی آئی جی بنوں عابد علی ۔خوبصورت نوجوان اقبال مروت ۔بہادری اور دلیری کی چند ایک مثالیں ہیں۔ہماری پولیس ہمارا فخر ہے۔ ثناء اللہ عباسی ہوں یا  ۔ایڈیشنل ائی جی فیروز شاہ یا ہوں چودھری سیلمان اشتیاق مروت۔ ہوں یا اول خان قاضی جمیل ہوں یا ۔عبدالغفور آفریدی اختر حیات گنڈاپور ہوں ۔یا محمد علی گنڈاپور ۔ یا محمد علی بابا خیل ہا ہوں کاشف عالم ہوں یا سعید وزیر .ظہور افریدی ہوں یا زیب اللہ خان عبدالرشید ۔ہوں یا جہانزیب برکی ۔ سجاد خان ہوں ۔کاشف ذوالفقار
یہ سب ہمارے سر کا تاج ہیں۔۔

"اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ
جس دیئےمیں جان ہوگی وہ دیارہ جائیگا "

پنجاب پولیس نے کیا کیا نہیں کیا۔۔ڈرائنگ روم انہیں کی ایجاد ہے۔۔سندھ پولیس کے بھی ایسے کارنامے ہیں کہ انسانیت شرما جائے۔۔ پھر سارا نزلہ کےپی کی پولیس پر ہی کیوں۔ چند اہلکاروں نے برا سلوک کیا۔۔ ہم نے سب سےپہلے آواز اٹھائی۔۔مٹھی بھر شرپسندوں کو صوبے کا امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
خیبرپختونخوا پولیس کی خدمات دیکھنا ہیں تو کورونا کے دوران دیکھو۔ کمال جرات، بہادری اور انسانی ہمدردی کی ایسی مثالیں کہ آفرین۔۔ اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر شب و روز ڈیوٹی نبھا رہے ہیں۔عام عوام،خواتین،مسکینوں اور ضرورت مندوں کے ساتھ ان کا رویہ اور خدمات لازوال ہیں۔ کسی نے غریبوں کو کھانا کھلایا تو کسی نے بزرگ شہریوں کو کندھے پر اٹھا کر ان کی منزل تک پہنچایا۔پاک فوج کے بعد اگر کسی نے دل و جان سے اپنے فرائض نبھائے ہیں تو وہ ہے خیبرپختونخوا کی پولیس۔۔ میرا سلام ان جوانوں کو جنہوں نے وطن پر جان واری۔۔ دن دیکھا نہ رات۔۔ ہمارے سکون کی خاطر اپنا سکون چھوڑا۔۔یہ قوم آپ کی احسان مند ہے۔۔ آپ کے مقدس جذبوں اور خدمت کو ہمارا سلام۔۔ کیونکہ تم ہی سے ہے پاکستان۔

"لوگ کہتے ہیں بدلتا ہے زمانہ سب کو
مردوہ ہیں جوزمانےکو بدل دیتے ہیں"