مثالی پولیس۔۔ یا۔۔کچھ اور ۔۔؟

تحریر ۔زاہد خٹک

 مثالی پولیس۔۔ یا۔۔کچھ  اور ۔۔؟

 

۔"میں تہکال کا عامر"ہوں۔ چند روز قبل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک نوجوان پشتو زبان میں پولیس کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرتا دکھائی دیتا ہے۔۔ سوشل میڈیا کے"پردھان" فوری پولیس کے حمایتی بن جاتے ہیں۔۔جگہ جگہ سے سے ایکشن کی صدائیں آنے لگتی ہیں۔۔بس پھر کیا تھا پولیس حرکت میں آئی۔۔معمولی سی کارروائی۔۔ اور نوجوان اندر۔۔پھر ایک نئی ویڈیو آئی۔۔ جس میں عامر سے معافی منگوائی گئی۔۔نوجوان  نے کہا کہ وہ اپنے کئےپرشرمسارہے۔۔معافی کا طلبگار ہے۔۔ پھر کچھ لوگوں نےعامر کو طعنے دیئے تو کچھ نے پولیس کے تشدد آمیز رویئے کو نشانہ بنایا۔

اللہ اللہ کرکے سوشل میڈیا پربیانات کا طوفان تھما ہی تھا کہ آج ایک اور ویڈیو وائرل ہوگئی۔۔ویڈیو بھی ایسی کہ دل دہلا دے۔۔انسانیت کو بھی شرما دے۔۔ ویڈیو میں اسی نوجوان عامر کو برہنہ دکھایا گیا ہے۔۔ پولیس اہلکار فخر اسے پوچھ رہے ہیں۔" غیر اخلاقی گفتگو کررہے ہیں کہ  اشارہ کر کے بتاؤ"۔۔ اوربے بسی کی تصویر عامر تین اہلکاروں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔۔ اور پولیس اہلکار ہنس رہے ہیں۔۔اس ویڈیو کے وائرل ہونے پرپولیس حکام متحرک ہوئے۔۔پہلے انسپکٹر جنرل پولیس اور  پھر ایس ایس پی نے ایکشن کا یقین دلایا۔۔متعلقہ پولیس اہلکاروں کی گرفتاری کی بھی اطلاع آچکی۔۔اب ظلم پر ظلم دیکھیئے،،ملزم پکڑ بھی لیے تو کمزور دفعات لگائیں۔پھر پیٹی بھائیوں کی ہمدری جاگ آئی۔۔کالی وردی میں کالے کرتوت کرنے والوں کو شرم نہ آئی۔۔َ؟۔۔

عامر سے متعلق معلوم ہوا ہے کہ وہ پشاور کے ایک شادی ہال میں بطو ویٹر کام کرتا تھا،،کورونا وائرس کے سبب کام ٹھپ ہوچکا۔۔ اور وہ تین ماہ سے بیروزگار تھا۔۔ اس بات کی تصدیق کیلئے عامر کے خاندان سے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن رابط نہ ہوسکاکے پی پولیس کی جانب وائرل مبینہ ویڈیو کے بعد سوشل میڈیا پر تنقید کا سونامی آگیا۔۔ پولیس کے ہاتھوں انسانیت کی تذلیل پر اہل دل پھٹ پڑے۔۔ظلم، بربریت اور جہالت کی ایسی مثال دنیا میں آپ کو نہیں ملے گی جو تہکال پولیس نے پیش کی۔۔خان صاحب کی مثالی پولیس کو ایسی ایسی صلواتیں سنائی جارہی ہیں کہ الامان۔۔عمران خان صاحب وزیراعظم بننے سے پہلےجگہ جگہ جس مثالی پولیس کے قصے سناتے تھے کیا وہ یہ تھی۔۔؟ ۔۔"مثالی پولیس ہے یا کچھ اور  "۔۔۔؟۔۔کیا خیبرپختونخوا پولیس نے قوم کے سرشرم سے جھکا دیئے ۔۔؟۔آج سوشل میڈیا پر طرح طرح کے سوال اٹھا رہے ہیں۔۔ایک صاحب نے تو یہاں تک لکھا کہ خان صاحب تبدیلی تھانوں کو رنگ کرنے یا نئی کرسیاں اور میز لگانے سے نہیں آتی۔۔

 

اب گیند گھوم پھر کر قانون کی کورٹ میں ہے۔۔دیکھنا یہ ہے کہ عامرتہکال کے ملزمان کو سزا ملتی ہے یا وہی روایتی سی معطلی۔۔کچھ دن گھر بیٹھا کر انہیں دوبارہ ڈیوٹی پر بلا لیا جاتا ہے۔۔چند کالی بھیڑوں نے شہداء کے نام کو بھی داغدار کر دیا ہے۔اپنے خون سےامن کی آبیاری کرنےوالے غازی بھی آج شک کےدائرے میں کھڑے ہیں۔۔ انہیں بدنامی کے اس دائرے سے کون نکالے گا۔۔ سبھی نظریں اگلے فیصلے پر ٹکی ہیں۔