44

کونسے شہابِ ثاقب زمین پر وسیع پیمانے پر اموات کا سبب بنتے ہیں؟

ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ کوئی بھی شہابِ ثاقب زمین سے ٹکرا کر کس نوعیت کا نقصان پہنچائے گا اس کا تعین اس بات پر منحصر ہے کہ وہ چٹان کن مرکبات سے بنی ہے۔

زمین پر اس کی ساڑھے چار ارب سال کی تاریخ میں ہمیشہ ہی خلاء سے چٹانیں برستی رہی ہیں۔

اب ایک ماہرین کی ٹیمنے پتہ لگایا ہے کہ کیوں کچھ شہاب ثاقب زمین پر بڑے پیمانے پر اموات کا سبب بنے جس میں ڈائنو سار کا صفحہ ہستی سے مٹ جانا ہے، جبکہ کچھ اس سے کم مہلک ثابت ہوئے۔

یونیورسٹی آف لیورپول کے محققین نے پچھلے 60 کروڑ سال کے 44 ٹکراؤ کا تجزیہ کیا۔

اپنی تحقیق میں انہیں معلوم ہوا کہ زمین سے ٹکرانے والی وہ چٹانیں جو پوٹاشیم فیلڈسپر سے مالا مال تھیں ہمیشہ بڑے پیمانے پر اموات کا سبب بنیں اور اس میں اس چٹان کے سائز کا کوئی تعلق نہیں تھا۔

وسیع پیمانے پر اموات کا سبب بننے والے ان موقعوں کا مرکزی کردار پوٹاشیم فلیڈسپر تیزابی نہیں ہوتا لیکن طاقتور ice-nucleating ذرات کے طور پر کام کرتا ہے جو بادلوں محرکات کو شدید متاثر کرتے ہیں۔

Ice-nucleating ایک ایسا عمل ہوتا ہے جس میں ذرات ٹھنڈے بادلوں میں شامل ہوجاتے ہیں اور اپنے گرد برف بنا لیتے ہیں۔

ایسا ہونے سے بادلوں سے زیادہ شمسی شعائیں گزرتی ہیں جو نتیجتاً سیارے کو گرم کردیتیں ہیں اور موسم کو بدل دیتیں ہیں۔

جب ایسا ہوتا ہے تو یہ ایٹماسفیئر کو گرین ہاؤس گیس کے اخراج سے گرم ہونے کے لیے مزید حساس کر دیتی ہے جیسے کہ آتش فشاں کا پھٹنا۔

یونیورسٹی آف لیورپول کے ڈاکٹر کرس اسٹیونسن اس بین الاقوامی تحقیق کے شریک مصنف تھے۔

دہائیوں تک سائنس دان اس بات میں الجھے رہے کہ کچھ شہابِ ثاقب وسیع پیمانے پر اموات کا سبب بنے جبکہ دیگر جو ان سے بڑے تھے اس قسم کا کچھ نہ کر سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں