41

عوامی شخصیات کو ہراساں کرنا ہوا مشکل،فیس بک کے نئے قوانین کی تیاریاں

دبئی:سماجی رابطے کی سب سے بڑی ویب سائٹ فیس بک اپنے صارفین کی سہولیات کے پیش نظر آئے روز اپنی پالیسی ،ضابطوں اور قوانین میں تبدیلی کرتا رہتا ہے۔اسی چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے اب فیس بک نے نئے قوانین کی تیاریاں شروع کردی ہیں جس کے مطابق اب کوئی بھی صحافیوں،انسانی حقوق کے علمبرداروں اور عوامی شخصیات کو ہراساں نہیں کرسکے گا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق اپنے صارفین کو مزید محفوظ تصور کرانے کے لئے مارک زکر برگ کی زیر ملکیتی کمپنی فیس بک نے نئے قوانین پر کام شروع کردیا ہے جس کے مطابق فیس بک اب ایکٹوسٹ اور صحافیوں کو عوامی شخصیات میں شمار کرے گا اور اس طرح ان شخصیات کو نشانہ بنائے جانے اور ہراساں ہونے سے بچانے کے لئے اقدامات کرے گا۔

واضح رہے کہ فیس بک جس میں تقریباً 2اعشاریہ 8بلین ماہانہ فعال صارفین ہیں کو چیلنجز درپیش رہتے ہیں کہ وہ کس طرح اپنے صارفین کو سہولیات فراہم کرنے کے لئے اقدامات کرتے ہیں۔

فیس بک کے گلوبل ہیڈ آف سیفٹی اینٹیگون ڈیوس نے کہا کہ کمپنی اب شدید اور ناپسندیدہ جنسی مواد ، توہین آمیز جنسی فوٹو شاپ شدہ تصاویر یا ڈرائنگ یا کسی شخص کی ظاہری شکل پر براہ راست منفی حملوں کی اجازت نہیں دے گا جس میں مثال کے طور پر کسی عوامی شخصیت کے پروفائل پر تبصرے شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں