0

پاکستان کے پاس افغان سر زمین سے دہشت گردی کے ثبوت ہیں تو دے لیکن حملہ جارحیت تصور ہو گا، افغان حکومت کے ترجمان کا اہم ترین بیان

کابل: افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس دہشت گردی کے حوالے سے کوئی ثبوت ہیں تو ہمیں دیں، ہم خود کارروائی کریں گے تاہم افغانستان پر حملہ اور کارروائی کو جارحیت تصور کیا جائے گا۔ یوٹیوب چینل ‘خراسان’ ڈائریز کو انٹرویو دیتے ہوئے افغان ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کا کہنا تھا کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ ہمارے تجارتی تعلقات اچھے ہیں، پاکستان کے ساتھ تجارت دیگر ممالک سے زیادہ ہے، پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے ہم پاکستانی قوم اور حکومت کہنا چاہتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اور تجارتی معاملات کو الگ الگ رکھنا چاہیے ورنہ سیاسی اختلافات بڑھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے تجارتی معاملات درحقیقت سیاسی معاملات سے متاثر ہوئے ہیں، دونوں ممالک کے تاجر ایک دوسرے کی ضرورت ہیں، اس لیے ہمارا مطالبہ ہے۔ کہ سیاست اور تجارت کو الگ کیا جائے۔ افغان حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مسئلہ 2001 سے چلا آرہا ہے، جس کا آغاز ان کی کارروائیوں سے ہوا، تحریک طالبان پاکستان پہلے بھی موجود تھی، پاکستان میں بدامنی پہلے بھی تھی اور یہ سلسلہ اب ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں امن ہمارے لیے بہت ضروری ہے۔ہم نے بارہا پاکستان کو اپنی حمایت کا یقین دلایا، ان سے کہا کہ اگر تحفظات ہیں تو ہم سے بات کریں، ہم افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے کیونکہ ہم نے جنگ دیکھی ہے اور ہم کسی ملک میں نہیں ہیں۔ وہ یہ نہیں چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں پاکستان کی سرزمین پر اندرونی مسائل خود ہی حل کرنا ہوں گے۔ یہ ممکن نہیں کہ اگر پاکستان کی سرزمین پر کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوگی۔ ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ دونوں ممالک کو افہام و تفہیم سے مسئلہ حل کرنا چاہیے اور ان مسائل پر کام کرنا چاہیے۔پاکستان کی جانب سے افغانستان کے اندر ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے سوال پر ترجمان نے کہا کہ ہم نے بارہا کہا ہے کہ ہم پاکستان میں امن چاہتے ہیں لیکن انہیں اپنے اندرونی مسائل خود حل کرنے ہوں گے اور اسے افغانستان سے جوڑنا درست نہیں۔ اگر ان کے پاس کوئی ثبوت ہیں تو ہمیں دیں، ہم خود کارروائی کریں گے اور کسی کو پاکستان کے خلاف کارروائی کرنے پر نہیں چھوڑیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں