0

موجودہ حکومت مسترد، ججز خط پر فل کورٹ بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں، اپوزیشن لیڈر نے اور کیا کہا ؟جانیں

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے کہا ہے کہ ہم حکومت کو فارم 47 کی بیساکھیوں سے مسترد کرتے ہیں، ہماری 180 نشستیں تھیں جنہیں واپس لینے کی کوشش جاری رکھیں گے۔ قومی اسمبلی میں سنی اتحاد کونسل سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب کو اپوزیشن لیڈر مقرر کر دیا گیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر بننے کے بعد میڈیا سے اپنی پہلی گفتگو میں انہوں نے شہباز حکومت پر کڑی تنقید کی۔عمر ایوب نے کہا ہے کہ حکومت نے 6 ججز کے خط کا جواب دے دیا ہے تاہم ہمارا مطالبہ ہے کہ اس معاملے پر فل کورٹ تشکیل دی جائے۔ ملک اور معاشرہ قانون کے بغیر نہیں چلتا، جب تک آئین اور قانون نہیں ہوگا ملک نہیں چل سکتا۔ اپوزیشن لیڈر نے مزید کہا کہ یہ حکومت مشورہ دینے کی صلاحیت نہیں رکھتی کیونکہ یہ خود کو مکمل بیوقوف سمجھتی ہے۔ اس بار بھی جی ڈی پی گروتھ نہ ہونے کے برابر رہے گی اور یہ حکومت اصلاحات کا ایجنڈا پورا نہیں کر سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ پہلی ترجیح پاکستان کی سالمیت ہے اور عوام کے لیے کام کرنا ہے۔ اپوزیشن متحد ہو کر اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ وہ مہنگائی، لاقانونیت، بجلی اور دیگر مسائل پر بھی بات کریں گے اور تمام اسیر رہنماؤں کے حق میں آواز اٹھائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں