18

روس کا اسٹونین سفیر کو 7 فروری تک ملک چھوڑنے کا حکم

ماسکو ( ویب ڈیسک ) روس میں تعینات اسٹونیا کے سفیر مارگس لیدرے کو 7 فروری تک ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا، لیدرے وہ پہلے سفیر ہیں جنہیں روس نے گزشتہ سال یوکرین پر حملہ کرنے کے بعد ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق روسی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اسٹونیا نے ماسکو کے ساتھ تعلقات کو جان بوجھ کر تباہ کیا ہے، اب اسٹونیا نے اپنے دارالحکومت ٹالن میں روسی سفارت خانے کے اہلکاروں کی تعداد کو یکسر کم کرنے کے لیے ایک نیا غیر دوستانہ قدم اٹھایا ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے خاتمے کا اشارہ دیا گیا ہے۔روسی وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ لیدرے کو پیر کو وزارت میں طلب کیا گیا جہاں انہیں ملک چھوڑنے کو کہا گیا، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری اب اسٹونیا پر منحصر ہے۔رپورٹس کے مطابق اسٹونین سفیر لیدرے کے خلاف روس کا یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب حال ہی میں اسٹونیا کی جانب سے ٹالن میں روسی سفارت خانے میں اہلکاروں کی تعداد میں کمی کا حکم دیا گیا تھا۔ماسکو سے کہا گیا تھا کہ وہ جنوری کے آخر تک اپنے سفارت خانے میں اہلکاروں کی تعداد 17 سے کم کر کے آٹھ کر دے، سفارت خانے کے عملے نے تنازع شروع ہونے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو آگے بڑھانے کی کوشش کرنا چھوڑ دی ہے۔خیال رہے کہ اسٹونین سفیر لیدرے 2018 سے روس میں تعینات ہیں اور اس سے قبل وہ برطانیہ اور فن لینڈ میں بھی اس عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔دوسری جانب لٹویا کی وزارت خارجہ نے بھی روسی سفیر کو 24 فروری تک ملک چھوڑنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک روس کے ساتھ سفارتی تعلقات کم کر کے اسٹونیا کی حمایت کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں