42

شاہی اداب سیکھے اورضروری تربیت حاصل کرئے

ستر سال ولیعہد رہنے کے بعد شہزادہ اپنی والدہ ملکہ الزبتھ دوئم کے انتقال پر 8 ستمبر کو برطانیہ کا بادشاہ ( چارلس سوئم) بن گیا۔ ملکہ نے 96 سال کی طویل عمر پائی تھی اور ولیعہد کو70 سال کا لمبا عرصہ ملا کہ شاہی اداب سیکھے اورضروری تربیت حاصل کرئے تاکہ مستقبل کی ذمہ داریوں کو بحسن وخوبی ادا کرسکے۔ وہ برطانیہ کے علاوہ دولت مشترکہ کے دیگر چودہ ملکوں کا سربراہ مملکت بھی بن گئے۔ اسٹریلیا، کینیڈا اور نیوزیلینڈ جیسے بڑے ملکوں میں اکثریت بادشاہت کے حق میں ہے اور باقی ممالک میں بھی اس کے مخالف کوئ موثر تحریک دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ اگر کوئ ملک اپنے لئے صدرمملکت کا عہدہ بہتر سمجھتا ہے تو تاج برطانیہ کی طرف سے زبردستی نہیں ہو سکتی ۔ پچھلے سال باربیڈوس نے برطانیہ کی بادشاہت کو خیرباد کہا اور ریپلک بن گیا۔ درحقیقت ریپبلک کے حامی افراد برطانیہ سمیت ہر جگہ موجود تو ہیں لیکن نہ ہونے کے برابر۔ بزرگ نسل کی نظر میں تو ملکہ نہ صرف عہد رفتہ کی یادگار بلکہ تاریخ کا اہم کردار تھی۔ اس لئے اس کی مقبولیت بزرگوں میں زیادہ تھی ۔ ان میں بادشاہ کی مقبولیت شاید اتنی نہ ہو۔ اور نوجوانوں میں بادشاہت کی مقبولیت بزرگوں سے یقینا کم ہے۔ بادشاہ کو ان حقائق کا بخوبی اندازہ ہے اور وہ یہ وضاحت کر چکا ہے کہ جو عوام نہیں چاہتے وہ نہیں ہوگا۔ اس کے ساتھ اس نے عوام پر بادشاہت کا بوجھ کم کرنے کے لئے رسمی طور پر شاہی خاندان میں شہزادہ یا شہزادی کا خطاب دس سے کم کرکے سات افراد تک محدود کر دیا ہے۔ اسی طرح ملکہ کوئی بیس سال سے اپنی امدنی پر رضاکارانہ طور پر ٹیکس ادا کر رہی تھی ۔ ایک دفعہ شاہی محل میں اگ لگنے سے نقصان ہوا تو ملکہ نے ذاتی خرچ سے اسکی مرمت کی۔ ایسے اقدام سے نہ صرف قومی خزانے پر بوجھ کم ہوجاتا ہے بلکہ عوام کی ننظروں میں بادشاہت کی پذیرائی بڑھ جاتی ہے۔شہزادہ کے بادشاہ بننے کے بعد اس کے احتیارات میں اضافہ لیکن شخصی ازادی میں کمی ہوئی ہے۔ وہ پاسپورٹ رکھ سکیں گے نہ ڈرائیونگ لائسنس، اس لئے کہ یہ دستاویزات بادشاہ کے نام سے جاری ہوتے ہیں اور بادشاہ کا اپنے لئے ان کا اجرا نہ کرنا ایک روایت بن گئی ہے۔ بادشاہ کو ضرورت بھی پیش نہیں ائیگی۔ پہلے تو وہ سڑکوں پر گاڑی نہیں دوڑائیں گے اور اگر فرض کریں اس نے دوڑائی بھی اور ٹریفک کی کسی قانون کی خلاف ورزی کی تو بادشاہ کا چالان نہیں ہوسکتا۔ اس کو کسی قسم کی قانونی چارہ جوئی سے استثنا حاصل ہے۔ تو پھر ڈرائیونگ لائسنس کی کیا ضرورت؟ اس کے علاوہ بادشاہ اگر بیرون ملک سفر کرنا چاہے تو اس سے پاسپورٹ طلب نہیں کیا جاتا یہاں تک کہ دولت مشترکہ سے باہر بھی کسی ملک میں اس کا داخلہ بغیر پاسپورٹ کے ہوگا۔ انجہانی ملکہ نے بھی سو سے زیادہ ملکوں کا بغیر پاسپورٹ کے دورے کئے تھے۔ پاسپورٹ یا ڈرائیونگ لائسنس نہ رکھنا تو بہت آسان ہے لیکن جو کام بادشاہ کے لئے مشکل ہوگا وہ ریاستی امور پر برملا اپنی رائے کے اظہار سے اجتناب کرنا ہے۔ ولیعہدی میں وہ کئ معاملات پر نہ صرف اپنے خیالات کا اظہار کرچکا ہے بلکہ متعلقہ وزراء کو خطوط بھی لکھ چکا ہے۔ وہ موسمیاتی تغیر کے سدباب کا بھرپور اوربرملا حمایت کرتا تھا اور پچھلے سال سکاٹ لینڈ میں موسمیاتی تبدیلی پر عالمی کانفرنس کے موقع پر اہم کردار ادا کرکے اپنی شخصیت کی دھاک بٹھا چکا ہے۔ اب وہ بادشاہ بن گئا ہے تو حکومت کے مشورے کے پابند ہوگا اور مصر کے ساحلی شہر شرم الشیخ میں اگلے مہینے ہونے والی موسمیاتی تغیر پر عالمی کانفرنس میں شریک نہیں ہوگاچند ماہ پہلے جب برطانیہ ائے والے غیر قانونی تارکین وطن کو افریقی ملک روانڈا بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا تو شہزادے نے اس قدم کوغیرمناسب قرار دیا تھا۔ اب وہ ایسا نہیں کر سکے گا۔ بحیثیت بادشاہ اس کو حکومت کی پالیسیوں پر تبصرے سے پرہیز کرنا ہوگا۔ اس کا درجہ بلند ہوا لیکن آزادی سلب کی گئی۔ بادشاہ ویسے تو کم گو ہے لیکن اتنا بھی نہیں جتنا ملکہ تھی۔ ویسے بادشاہ وقت انے پر شاہی اداب کو بالائے طاق رکھنا بھی جا نتا ہے۔ ملکہ کا تابوت جب بکنگھم پیلس میں رکھا گیا تھا اور وہاں غم گساروں کا جم غفیر امڈ ایا تھا تو بادشاہ محل میں داخل ہوتے ہوئے گاڑی سے اتر کر عوام میں گھل مل گیا اور ان سے ہاتھ ملاتا رہا۔ ایسا اس سے پہلے کبھی کسی بادشاہ یا ملکہ نے نہیں کیا تھا۔بادشاہ فلاحی کاموں میں نہ صرف دلچسپی رکھتا تھا بلکہ حصہ بھی لیتا تھا۔ اس کے ساتھ کام کرنے والے ایک ملازم نے کہا کہ ایک دفعہ رات کے وقت اس کو ایک فون ایا، پرنس چارلس بات کر رہا تھا۔ “میں نے ابھی ابھی خبر سنی ہے کہ پاکستان میں سیلاب ایا ہے۔ ہم کیا کر رہے ہیں؟” شہزادے نے استفسار کیا۔ یہ تھی انسانی اور فلاحی کاموں میں شہزادے کی دلچسپی کا حال۔ اب وہ ان کاموں کے لئے اتنا وقت نہیں دے سکے گا۔ بحیثیت بادشاہ وہ سینکڑوں فلاحی اداروں کے سربراہ ‘پیٹرن’ ہوگا اوراس کے پاس اس مقصد کے لئے پہلے جتنا وقت نہ ہو۔ مختصر یہ کہ اب بادشاہ کو بدلتے ہوے حالات میں ایک نئے کردار کو نبھانا ہوگا جس کے لئے اس نے اچھی خاصی تربیت حاصل کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں