98

کون بنے گا کروڑ پتی کا پہلا کروڑ پتی ان دنوں کہاں اور کس حال میں ہے ؟

ممبئی (ویب ڈیسک) سنہ 2000 معروف بالی وڈ اداکار امیتابھ بچن کے لیے بہت خاص سال تھا۔یہ وہ سال تھا جب امیتابھ بچن پہلی بار چھوٹے پردے کے شو ‘کون بنے گا کروڑ پتی’ کی میزبانی کر رہے تھے۔اس شو نے نہ صرف امیتابھ بچن کو چھوٹے پردے کا ایک بڑا سٹار بنا دیا بلکہ کچھ عام لوگوں کو ‘کروڑ پتی’ بنا کر ان کی قسمت بھی بدل دی۔اسی سلسلے میں پہلے ایک کروڑ روپے جیتنے والے ہرش وردھن نواتھے تھے۔ وہ پہلے شخص تھے جنھوں سنہ 2000 میں یہ انعامی رقم جیتی تھی۔ اس واقعے کو 22 سال بیت چکے ہیں۔ہرش وردھن نواتھے اب کہاں ہیں، وہ کیا کر رہے ہیں، ان کی زندگی میں کیا کچھ بدلا ہے؟ آئیے ان کے بارے میں جانتے ہیں کیونکہ ان کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں۔ ان کے 22 سال کے سفر پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔جب ہرش وردھن نے سنہ 2000 میں ٹیلی ویژن کے مقبول شو کون بنے گا کروڑ پتی (کے بی سی) کا پہلا سیزن جیتا تھا تو وہ ہر اخبار میں سرخیوں میں آئے تھے۔ہرش وردھن نواتھے کے والد آئی پی ایس آفیسر رہ چکے ہیں جبکہ ہرش وردھن خود کے بی سی میں شامل ہونے سے پہلے سول سروسز کی تیاری کر رہے تھے۔ہرش وردھن ان دنوں ممبئی میں مقیم ہیں اور آج ان کا خاندان ان کی بیوی اور دو لڑکوں پر مشتمل ہے۔ہرش وردھن نے بی بی سی ہندی سے خصوصی بات چیت میں کہا: ‘ان 22 سالوں میں میری زندگی بہت بدل گئی ہے۔ جب میں نے ایک کروڑ کی انعامی رقم جیتی تو میں ایک طالب علم تھا، میں بیچلر تھا۔ آہستہ آہستہ کارپوریٹ کرئیر میں چلا گیا۔ بڑے سیکٹر کی جانب میرا رجحان تھا، میں نے وہاں کام کیا۔ پھر شادی ہوئی، بچے ہوئے۔’ایک بار جب آپ خانگی زندگی میں داخل ہوتے ہیں تو ایک کے بعد ایک کڑی جڑتی چلی جاتی ہے اور زندگی کی گاڑی آگے بڑھتی رہتی ہے۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ آج میں ایک بڑی کمپنی سے وابستہ ہوں۔ میرے والدین میرے ساتھ اسی عمارت میں رہتے ہیں۔ ان کی دیکھ بھال کرنا میری ذمہ داری ہے۔ میری بیوی ایک مراٹھی ٹی وی اداکارہ ہے جن کا نام ساریکا ہے۔ میرے دو بیٹے ہیں، ایک کی عمر 14 سال اور ایک کی عمر 10 سال ہے۔ میں تین سال سے ممبئی میں ہوں۔ ورک فرام ہوم (گھر سے کام) کر رہا ہوں۔’کروڑ پتی بننے کے بعد زندگی کیسے بدلی اس پر ہرش وردھن کہتے ہیں: ‘میرے بارے میں لوگوں کا رویہ بدل گیا، پیسہ ملا تو اس پیسے سے اچھی سرمایہ کاری کی۔ اپنی پڑھائی پر پیسہ لگایا اور پڑھنے کے لیے بیرون ملک چلا گیا۔’کئی اچھے اور برے لوگ ملے جنھوں نے سرمایہ کاری کے مشورے دیے۔ مجھے بہت سی جگہوں پر مدعو کیا گیا، میرا استقبال کیا گیا۔ میں بطور مہمان خصوصی سکول، کالج گیا، مجھے ماڈلنگ اور اداکاری کی آفرز بھی ہوئیں۔ مجھے اس وقت جو درست لگا میں نے وہی کیا۔’بہر حال ایسا نہیں ہے کہ ان کی زندگی میں سب کچھ اچھا ہی رہا۔ہرش وردھن کہتے ہیں: ‘ایسے حال میں اپنے ہی بہت سے لوگ آپ کے خلاف ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ اسے یہ مل گیا اور مجھے نہیں ملا۔ مجھے اس قسم کے ایسے تمام تجربات ہوئے۔’انھوں نے بتایا: ‘اس وقت بہت سے لوگ تھے جنھیں یہ محسوس ہوا کہ میرے ساتھ کچھ برا ہو سکتا ہے۔ لوگ سمجھتے تھے کہ میں دنیاداری کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا ہوں۔ ہر کوئی اپنی طرف سے مشورہ لے کر آتا تھا کہ ‘اس میں سرمایہ کاری کریں، اب آپ کے پاس پیسے ہیں، یہ کیجیے، وہ کیجیے’۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ ہر کوئی اس قسم کی صورتحال سے گزرتا ہے اور یہ چیزیں آپ کو کچھ نیا سکھاتی ہیں۔ ایسا سبق لیتے ہوئے ہم آگے بڑھے اور خدا کے فضل سے اب تک سب کچھ اچھا ہی ہے۔’جہاں ہرش وردھن کو شو ‘کون بنے گا کروڑ پتی’ سے کامیابی، شہرت اور پیسہ ملا وہیں اس نے ان کے سب سے بڑے خواب کو ان سے چھین لیا۔ہرش وردھن آج اپنے آئی اے ایس نہ بن پانے کے لیے غمزدہ ہیں اور اس کے لیے وہ کے بی سی سے ملنے والی شہرت کو کہیں نہ کہیں ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔وہ کہتے ہیں: ‘میں اس وقت آئی اے ایس کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ میں اپنی تیاری کے عروج پر تھا۔ اگر یہ شو نہ ہوتا تو شاید میں آئی اے ایس کا امتحان پاس کر لیتا۔ اس سے پہلے آئی اے ایس بننا میری زندگی کا سب سے بڑا خواب تھا۔’خیال رہے کہ انڈیا میں سول سروسز کا آئی اے ایس (انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس) ایسا عہدہ ہے جو سب سے زیادہ مطلوب ہے اور جس کی خواہش زیادہ تر لوگ کرتے ہیں اور اسے سماج میں احترام کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔بہر حال ہرش وردھن کا ماننا ہے کہ کے بی سی میں ملنے والی ایک کروڑ کی رقم نے ان کےآئی اے ایس نہ بن پانے کا درد کچھ کم ضرور کیا۔انھوں نے کہا: ‘زندگی اگر کچھ لیتی ہے تو کچھ نہ کچھ ضرور دیتی ہے۔ میرا آئی اے ایس بننے کا خواب مجھ سے دور ہو گیا، لیکن جو کچھ ملا اسے سنبھالنا بھی ضروری تھا۔ اپنی زندگی کو کامیابی کے اس بہاؤ سے روکنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ خود پر ضبط رکھیں۔کامیابی اور پیسہ دیکھ کر اپنا آپا نہ کھو بیٹھیں۔’ہرش وردھن نے مراٹھی اداکارہ ساریکا سے شادی کی ہے۔ ان کی شادی کو تقریباً 16 سال ہوچکے ہیں۔ دونوں کی شادی ارینجڈ میرج تھی۔ساریکا کا کہنا ہے کہ ‘جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ میں ہرش وردھن سے شادی کر رہی ہوں، تب میرے بارے میں سب کا رویہ بدل گیا۔ میرے ساتھ بھی کچھ مضحکہ خیز واقعات پیش آنے لگے۔’جب مجھے کسی پروڈیوسر سے چیک لینا ہوتا تو وہ مجھ سے کہتا، ارے میڈم، اب آپ کی شادی کے بی سی ونر سے ہو گئی ہے، اب آپ کو کیا کرنا ہے؟’ساریکا نے بھی اسے اپنی زندگی میں ایک قسم کے ‘منفی اثر’ کے طور پر دیکھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ‘لوگ یہ نہیں سمجھتے تھے کہ میرا اپنا ایک الگ پیشہ ہے۔ میں ایک پیشہ ور ہوں۔ میرے ساتھ ایسا کئی بار ہونے لگا تھا۔’کے بی سی کے قوانین کے مطابق اگر آپ ایک بار کے بی سی میں جا کر جیت جاتے ہیں تو آپ کو دوسری بار ہاٹ سیٹ پر بیٹھنے کا موقع نہیں ملتا ہے۔ لیکن ہرش وردھن دو بار کے بی سی تک پہنچ چکے ہیں۔ اس بارے میں بہت کم لوگ
جانتے ہیں۔پہلی بار، ہرش وردھن نے پہلے سیزن میں ایک کروڑ کی انعامی رقم جیتی تھی۔ دوسرے سیزن میں انھیں مشہور شخصیت کے طور پر بلایا گیا تھا اور وہ 25 لاکھ روپے جیتنے میں کامیاب رہے تھے۔ اس کے بعد انھوں نے یہ رقم خیرات میں دے دی تھی۔وہ جانتے ہیں انھیں تیسرا موقع نہیں ملے گا لیکن ان کی خواہش ہے کہ اگر یہ شو اسی طرح چلتا رہا تو ان کا بڑا بیٹا اس میں شامل ہونے کی ضرور کوشش کرے گا۔ان 22 سالوں میں ہرش وردھن اور ان کا خاندان کئی جھوٹی خبروں کا شکار ہوا ہے۔ڈھائی سال پہلے ہرش وردھن نے ایک بڑے اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایک کمپنی چھوڑ کر دوسری کمپنی جوائن کر رہے ہیں۔ تاہم انٹرویو میں انھوں نے نئی کمپنی کا نام نہیں بتایا اور نہ ہی نئی کمپنی میں شمولیت کی تاریخ کا اعلان کیا۔ان کے اس انٹرویو کو دیکھ کر ایک اور اخبار نے چھاپ دیا کہ ‘ہرش وردھن کے پاس کوئی اور کام نہیں ہے۔ وہ نوکریوں کی تلاش میں ہیں۔ ان کے پاس پیسے ختم ہو چکے ہیں۔ساریکا کا کہنا ہے کہ ہرش وردھن سوشل میڈیا سے دور رہتے ہیں لیکن میں وہاں کافی ایکٹو ہوں۔ یہ اپنے آپ میں مضحکہ خیز ہے کہ آپ اپنی زندگی کے بارے میں کچھ مثبت بتائيں اور اسے اس طرح پیش کیا جائے کہ سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔’اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ بہت سے رشتہ دار فون کرنے لگتے ہیں۔ اساتذہ سکول میں بچوں سے سوال پوچھنا شروع کر دیتے ہیں، کیا گھر میں سب ٹھیک ہے اور ہمیں سمجھانا پڑتا ہے۔ خیر، اب شاید گھر والوں کو بھی عادت ہو گئی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں