33

لوڈ شیڈنگ سے ستائے عوام کیلئے اچھی خبر: حکومت نے بڑا فیصلہ کرلیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ حکومت نے ملک میں توانائی کے بحران اور دنیا بھر میں ایل این جی کی قلت سے نمٹنے کے لیے افغانستان سے کوئلہ درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے وزارت منصوبہ بندی کے زیر اہتمام ٹرن اراؤنڈ پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب کام کرنا ہو تو بے پناہ دروازے کھل جاتے ہیں ، آج ہم بہت مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے دو ارب ڈالر جلد مل جائیں گے، بہت جلد آئی ایم ایف سے معاہدہ ہونے والا ہے، پوری دنیا اس وقت معاشی بحران کا شکار ہے، خود انحصاری ہی قوم کی سیاسی اور معاشی آزادی کی ضمانت ہے، گزشتہ حکومت نے ترقیاتی کاموں کو التوا کا شکار رکھا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مخلوط حکومت میں سارے فیصلے مل کر ہوتے ہیں، مشاورت اہم عمل ہے ذمہ داری سے نبھائیں گے، ہمیں دن رات معطون کیا جاتا مگر اس حمام میں سب ننگے ہیں، رونے دھونے سے کبھی بات بنی ہے نہ بنے گی، ہم بڑی آسانی سے پچھلی حکومتوں پر ملبہ ڈال دیتے ہیں، ہم 14 ماہ میں معاشی استحکام لائیں مگر اس کے لیے سیاسی استحکام ضروری ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ اگر نواز شریف نے قطر سے گیس نہ لی ہوتی تو بہت مشکلات ہوتیں، عالمی بحران کی وجہ سے ایل این جی نہیں مل رہی، جولائی میں لوڈشیڈنگ بڑھے گی، پاکستان دیوالیہ ہونے سے بچ گیا ہے، تاریخ میں پہلی مرتبہ صاحب ثروت افراد پر ٹیکس لگایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئلہ ،تیل اور گیس پچھلے دور میں مہنگی ہوچکی تھی، تین ہفتے دن رات سر جوڑ کر ہم بیٹھے، جنکوز 60 روپے فی یونٹ بجلی بناتا ہے، یہ ہمارے لئے’’جنک‘‘ہے، حویلی بہادرشاہ کا پراجیکٹ وقت پر مکمل ہوجاتا تو جنکوز سے ساٹھ روپے فی یونٹ بجلی نہ لینا پڑتی۔ منصوبے کے حوالے سے وزیراعظم نے بتایا کہ حویلی بہادرشاہ پراجیکٹ کا پیسہ پاکستانی قوم کا ہے، 1250 میگا واٹ بجلی کا منصوبہ ہے، یہ آج سےڈھائی سال پہلےمکمل ہو جانا چاہئے تھا، اس منصوبے پروقت ضائع کیاگیا ، جس سے لاکھوں لوگوں کو روزگار ملنا تھا۔ انھوں نے کہا کہ مجھے کہا گیاکہ لوڈشیڈنگ منظورہے یا فارن ایکسچینج ہونا، میں نےکہاکہ ہم تیل سےچلالیں گے، 1250میگاواٹ کاپلانٹ چل گیاہوتا توآج یہ دن نہ آتے، ہم پچھلی حکومت پربڑی آسانی سےملبہ ڈال دیتےہیں آگے کام کرتے نہیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کل افغانستان سے کوئلہ درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جولائی میں امیدہے افغانستان سےکوئلہ آناشرو ع ہوجائے گا، یہ ٹرانزیکشن پاکستانی روپے میں ہوگی، ،دوارب ڈالر سالانہ بچیں گے ، افغانستان سے کوئلہ آئے گا ہمارے لئے آسانی ہوگی۔ شہباز شریف نے مزید کہا کہ نواز دور میں جو قطر سے گیس کا معاہدہ ہوا اس پرشکوک وشبہات کئےگئے، پھرایک اورخبراخبارات میں ہےکہ سپہ سالار گئے 10ارب ڈالرمیں وہ معاہدہ کرلیا، نہ لانگ ٹرم منصوبہ بنایانہ ہی گیس لی، پورایورپ اس گیس کوخریدرہا ہے ہم نے خریدی ہی نہیں۔ انھوں نے بتایا کہ چند ہفتے قبل پاکستان میں خوردنی تیل کا خطرہ منڈلانے لگا، میں نے انڈونیشیا کے صدر کو خط لکھا 3 دن بعد فون پر بات ہوئی، انڈونیشیا کے صدر نے کہا اسی وقت حکم دے دیتا ہوں، ہمارا وزیر اپنے خرچے پر جکارتہ گیا جب جہاز چل پڑے تو یہ واپس آیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں