56

لاکھوں کی رقم بھی واپس مل گئی، دنیا کا ایک ایسا ملک جہاں پر کسی کی قیمتی چیز کبھی بھی گم نہیں ہو سکتی

ہمارے ملک میں اگر کسی انسان کا پرس یا کچھ اور گر جائے تو وہ پولیس سے یا حکام سے رابطہ کرنے کے بجائے مسجد جا

کر یا مصلی بچھا کر دعا مانگنا شروع کر دیتا ہے۔ اس کی یہی دعا ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کے دل میں رحم ڈال دے تاکہ اس کا گم شدہ سامان کسی فرشتے کے ہاتھ لگ جائے اور وہ اس کو واپس لوٹا دے- لوگوں کی گم شدہ اشیا کو بازیاب کروانے کے لیے کسی باقاعدہ نظام کی غیر موجودگی کے سبب اکثر افراد گم ہونے والی اشیا پر فاتحہ پڑھ لیتے ہیں جب کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک ایسے بھی ہیں جہاں پر گم شدہ اشیا کو ڈھونڈنے کے لیے مکمل نظام موجود ہے اور وہ دعویٰ کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کے ملک میں کسی شخص کی کبھی کوئي چیز گم نہیں ہوتی ہے- جاپان میں گم شدہ چیزوں کو سنبھالنے کا نظام جاپان کی تہذیب کو دنیا کی قدیم ترین تہذیب قرار دیا جاتا ہے ان لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ گم شدہ چیزوں کو اس کے مالک تک پہنچانے کا رواج ان کے ملک میں ایک ہزار سال پرانا ہے- مگر آج کل کے جدید دور کے حساب سے جاپان والوں نے اس میں کافی تبدیلیاں کی ہیں اور اس کے مطابق انہوں نے جاپان کے شہر لڈا باشی میں گم شدہ اشیا کا ایک سینٹر بھی قائم کر رکھا ہے- گم شدہ چیز کے ملنے کے بعد کا عمل اس سنٹر کو چلانے والوں کے مطابق جاپان میں گم شدہ اشیا کو مالک تک پہنچانے کے اس نظام میں سب سے اہم کردار یہاں کے شہریوں کا ہے جن کی شروع سے یہی تربیت کی جاتی ہے کہ وہ اچھی اقدار کو اپنائيں اور کبھی بھی کسی دوسرے کے حق کو زبردستی چھیننے کی کوشش نہ کریں- اسی اصول کے تحت اگر کسی جاپانی شہری کو کسی کی کوئی گری ہوئی چیز ملتی بھی ہے تو وہ اس کو پولیس کے حوالے کر دیتا ہے اور پولیس والے اس شے کو ایک ہفتے تک رکھتے ہیں- اگر اس کو لینے کے لیے کوئی نہیں آتا ہے تو وہ اس کو گم شدہ چیزوں کے سینٹر میں جمع کروا دیتے ہیں- گم شدہ اشیا کے سینٹر میں ان اشیا کو تین ماہ تک رکھا جاتا ہے اور اس کے بعد ان اشیا کو نیلام کر دیا جاتا ہے اور اس کے پیسے حکومت کے خزانے میں جمع کروا دیا جاتا ہے- اب تک کی سب سے قیمتی چیز اس سینٹر کو چلانے والے افراد کا یہ کہنا ہے کہ ویسے تو سب سے زيادہ موبائل فون یا پرس ہی ان کے پاس لائے جاتے ہیں جن کو یہ شناخت چیک کر کے اس کے مالک کے حوالے کر دیتے ہیں- اس کے علاوہ شناختی کارڈ، صحت کارڈ، اے ٹی ایم کارڈ اور تعلیمی اسناد بھی گم شدہ اشیا میں شامل ہوتی ہیں- تاہم اب تک کی سب سے قیمتی چیز جو انہوں نے اس کے مالک کو لوٹائی وہ کاغذ کے ایک تھیلے میں موجود ایک لاکھ جاپانی ین تھے جو انہوں نے بحفاظت اس کے مالک کو لوٹا دیے- سب سے عجیب گمشدہ چیز سب سے عجیب گمشدہ چیز کے بارے میں ان کا بتانا تھا کہ وہ ایک نقلی دانتوں کا سیٹ تھا جس کو دیکھ کر ان کو حیرت ہوئی کہ اس کا مالک اپنے دانتوں کے بغیر اپنے گھر کس طرح گیا ہوگا یا کچھ بھی کھانے پینے کے قابل ہوا ہوگا- گم شدہ اشیا کو اس طرح سے بحفاظت مالک تک پہنچانے کے اس نظام کی کامیابی کا سارا کریڈٹ یہ لوگ اپنی اخلاقی تربیت کو دیتے ہیں جہاں ہر فرد میں یہ احساس ذمہ داری ہے کہ دوسروں کی چیز کو خود لینے کے بجائے اس کے مالک تک پہنچانے میں مدد کی جائے- اللہ کرے ہمارے ملک میں بھی ایسا نظام قائم ہو سکے اور ہم بھی فخریہ طور پر دوسروں کے

سامنے اپنی ایمانداری کا پرچار کر سکیں آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں